ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 31

رکھنا چاہیے کہ کلام الٰہی میں استعارات بہت پائے جاتے ہیں۔چنانچہ ایک جگہ دل کو بھی عرش کہا گیا ہے کیونکہ خدا کی تجلّی بھی دل پر ہوتی ہے اور ایسا ہی عرش اس وراء الوراء مقام کو کہتے ہیں جہاں مخلوق کا نقطہ ختم ہو جاتا ہے۔اہلِ علم ا س بات کو جانتے ہیں کہ ایک تو تشبیہ ہوتی ہے اور ایک تنز یہ ہوتی ہے مثلاً یہ بات کہ جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جہاں پانچ ہوں وہاں چھٹا ان کا خدا ہوتا ہے۔یہ ایک قسم کی تشبیہ ہے جس سے دھو کا لگتا ہے کہ کیا خدا پھر محدود ہے؟ اس لیے اس دھوکا کے دور کرنے کے لئے بطور جواب کے کہا گیا ہے کہ وہ تو عرش پر ہے جہاں مخلوقات کا دائرہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ کوئی اس قسم کا تخت نہیں ہے جو سونے چاندی وغیرہ کا بنا ہوا ہو اور اس پر جواہرات وغیرہ جڑے ہوئے ہوں بلکہ وہ تو ایک اعلیٰ ارفع اور وراء الوراء مقام ہے اور اس قسم کے استعارات قرآن مجید میں بکثر ت پائے جا تے ہیں جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِيْلًا ( بنی اسـرآءیل: ۷۳) ظاہراً تو اس کے معنے یہی ہیں کہ جو اس جگہ اندھے ہیں وہ آخرت کو بھی اندھے ہی رہیں گے۔مگر یہ معنے کون قبول کرے گا جب کہ دوسری جگہ صاف طور پر لکھا ہے کہ خواہ کوئی سوجاکھا ہو خواہ اندھا جو ایمان اور اعمال صالحہ کے سا تھ جاوے گا وہ تو بینا ہوگا لیکن جو اس جگہ ایمانی روشنی سے بے نصیب رہے گا اور خدا کی معرفت حا صل نہیں کرے گا وہ آخر کو بھی اندھا ہی رہے گا۔کیونکہ یہ دنیا مزرعہ آخرت ہے جو کچھ کوئی یہاں بوئے گا وہی کاٹے گا اور جو اس جگہ سے بینائی لے جائے گا وہی بینا ہوگا۔مومن کا فرض پھر اس کے آگے خدا تعالیٰ نے ایک دعا سکھلائی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ( الفاتـحۃ :۶،۷) یعنی اے خدا کہ تو ربُّ العالمین،رحـمٰن، رحیم اور مالک یوم الدّین ہے ہمیں وہ راہ دکھا جو ان لوگوں کی راہ ہے (بقیہ حاشیہ) اپنی سمجھ کے مطابق لکھتے ہیں۔بدر نے جو لکھا ہے وہ قرآن مجید کی آیت کے مطابق ہے۔الحکم نے معلوم ہوتا ہے تین کے بعد چار کا ذکر اپنی سمجھ کے مطابق کر دیا ورنہ حضور نے وہی فرمایا ہوگا جو بدر نے ذکر کیا ہے کیونکہ قرآنی آیت کے وہی مطابق ہے۔(شمس)