ملفوظات (جلد 10) — Page 375
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۵ جلد دہم سوال۔ تو پھر اس کا یہ لازمی نتیجہ ہوگا کہ وہ حیوانات جن کو ہم مارتے ہیں ان کو مردہ نہیں بلکہ زندہ یقین کریں۔ جواب ۔ فرمایا کہ ہاں یہ ضروری بات ہے وہ فنا نہیں ہوئے ان کی روح باقی ہے وہ حقیقتا نہیں مرے بلکہ وہ بھی زندہ ہیں ۔ سوال۔ بائبل میں لکھا ہے کہ آدم یا یوں کہیے کہ پہلا انسان جیحون سیحون میں پیدا ہوا تھا اور اس کا وہی ملک تھا تو پھر کیا یہ لوگ جو دنیا کے مختلف حصوں امریکہ، آسٹریلیا وغیرہ میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ اس آدم کی اولاد سے ہیں؟ جواب ۔ فرمایا۔ ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی اس مسئلہ میں ہم تو ریت کی پیروی کرتے ہیں کہ چھ سات ہزار سال سے ہی جب سے یہ آدم پیدا ہوا تھا اس دنیا کا آغاز ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا اور خدا گو یا معطل تھا۔ اور نہ ہی ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ یہ تمام نسل انسانی جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے یہ اسی آخری آدم کی نسل ہے۔ ہم تو اس آدم سے پہلے بھی ا نسل انسانی کے قائل ہیں جیسا کہ قرآن شریف کے الفاظ سے پتہ لگتا ہے۔ خدا نے یہ فرمایا کہ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرۃ: ۳۱) خلیفہ کہتے ہیں جانشین کو۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آدم سے پہلے بھی مخلوق موجود تھی ۔ پس امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کے لوگوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس آخری آدم کی اولاد میں سے ہیں یا کہ کسی دوسرے آدم کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ کے سوال کے مناسب حال ایک قول حضرت محی الدین ابن عربی صاحب کا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں حج کرنے کے واسطے گیا تو وہاں مجھے ایک شخص ملا جس کو میں نے خیال کیا کہ وہ آدم ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تو ہی آدم ہے؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ تم کون سے آدم کے متعلق سوال کرتے ہو؟ آدم تو ہزاروں گذر چکے ہیں۔ سوال کیا حضور مسئلہ ارتقا کے قائل ہیں یعنی یہ کہ انسان نے ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت میں ترقی کی ہے