ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 374

ہیں۔(اسی واسطے آئندہ انسانی اجر بھی حیوانی اجر سے بڑھا ہوا ہوگا) تکالیف انسانی دو قسم کی ہیں۔ایک تکالیفِ شرعیہ دوسری تکالیف قضا و قدر۔تکالیف قضا و قدر میں انسان و حیوان مشترک اور قریباً برابر ہیں۔اگر انسان کے ہاتھ سے حیوان مَرتے ہیں تو حیوانوں کے ہاتھ سے آخر انسان بھی تو مَرتے ہیں۔اسی طرح اور اور تکالیف میں بھی ان کا آپس میں ایک قسم کا اشتراک پایاجاتا ہے۔باقی تکالیفِ شرعیہ میں انسان کے ساتھ حیوانات کا کوئی اشتراک نہیں ہے۔احکامِ شرعیہ بھی ایک قسم کی چُھری ہے جو انسانی گردن پر چلتی ہے۔مگر حیوان اس سے بری الذّمہ ہیں۔امور شرعیہ بھی ایک موت ہیں جو انسان کو اپنے اوپر وارد کرنی پڑتی ہے۔پس اس طرح سے ان باتوں کو یکجائی طور سے دیکھنے سے صاف معلوم ہوگا کہ تکالیف انسانی تکالیف حیوانی سے بہت بڑھی ہوئی ہیں۔تیسری بات جو قابل یاد ہے یہ ہے کہ انسانی حواس میں بہت تیزی ہے۔انسان میں قوتِ احساس زیادہ پائی جاتی ہے۔حیوانات یا نباتات اس کے مقابلے میں بہت کم احساس رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حیوانات کو اتنی عقل بھی نہیں دی گئی۔عقل سے ہی شعور پیدا ہوتا ہے۔حیوانات میں چونکہ عقل اور شعور بہت کم درجہ کا ہوتا ہے اسی واسطے ایک قسم کی مستی کی حالت میں رہتے ہیں۔احساس کا مسئلہ زیادہ تر انسان میں ہی پایا جاتاہے۔حیوانات میں یہ قویٰ ایسے کم درجہ کے ہیں کہ گویا نہ ہونے کے برابر ہیں۔پس حیوانات ان تکالیف کا بہت کم احساس کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ بعض اوقات بالکل ہی نہ کرتے ہوں۔اب جائے غور ہے کہ دنیا میں ان تکالیف کا بوجھ کس پر زیادہ ہے آیا انسان پر یا حیوان پر؟ صاف ظاہر ہے کہ انسان ہی کو ان مشکلات دنیوی میں بہ نسبت حیوانات کے زیادہ حصہ لینا پڑتا ہے۔سوال۔آپ نے جو کچھ بیان فرمایا میں نے سمجھ لیا۔اب یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ حیوانات کو بھی آئندہ عالَم میں کوئی بدلہ دیا جاوے گا؟ جواب۔فرمایا۔ہاں ہم مانتے ہیں کہ علیٰ قدر مراتب سب کو ان کی تکالیف دنیوی کا بدلہ دیا جاوے گا اور ان کے دکھوںاور تکالیف کی تلافی کی جاوے گی۔