ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 373

ادنیٰ اعلیٰ کا خادم ہو یا اس کی خوراک بنے اور اس کے سامنے ذلیل رہے؟ جواب۔ہم نے تو ابھی بیان کیا ہے کہ خدا کی صفات محبت، رحم اور غضب کی تشریح ہم اس طور سے نہیں کرسکتے جیسا کہ انسانوں میں یہ صفات ہیں۔انسانی حالت پر خدا کا قیاس کرنا سخت غلطی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا ایک وسیع نظام ہے جو اس نے اسی طرح بنایا ہے۔اس نظام میں انسان اپنی حد سے زیادہ دست اندازی نہیں کر سکتا اور یہ مناسب نہیں کہ دقیق در دقیق مصالح خدائی میں دخل دے کر ہربات میں ایک سوال پیدا کر لے۔یہ عالَم ایک مختصر عالَم ہے۔اس کے بعد خدا نے ایک وسیع عالَم رکھا ہے جس میں اس نے ارادہ اور وعدہ کیا ہے کہ سچی اور ابدی خوشحالی دی جاوے گی۔ہر دکھ جو اس جہان میں ہے اس کا تدارک اور تلافی دوسرے عالَم میں کر دی جاوے گی۔جو کمی اس جہان میں پائی جاتی ہے وہ آئندہ عالم میں پوری کر دی جاوے گی۔باقی رہا دکھ اور تکلیف، رنج و محن یہ تو ادنیٰ و اعلیٰ کویکساں برداشت کرنا پڑتا ہے اور یہ اس نظام عالَم کے قیام کے واسطے لازمی اور ضروری تھے۔اگر وسیع نظر سے دیکھا جاوے تو کوئی بھی دکھ سے خالی نہیں۔ہر مخلوق کو علیٰ قدر مراتب اس میں سے حصہ لینا ہی پڑتا ہے۔البتہ کسی کو کسی رنگ میں ہے اور کسی کو کسی رنگ میں۔اگر باز چڑیوں اور پرندوں کو کھاتا ہے تو شیر، چیتے اور بھیڑئیے انسان کے بچوں کو بھی کھا جاتے ہیں۔سانپ بچھو وغیرہ بھی ستاتے ہیں۔غرض یہ سلسلہ تو اس طرح سے چل رہا ہے۔اس سے خالی کوئی بھی نہیں۔البتہ ان کی تلافی اور تدارک کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا عالم رکھا ہے۔اسی واسطے تو قرآن شریف میں اس کانام مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ بھی ہے۔ہو سکتا ہے کہ انسان خوشحال ہو مگر ممکن ہے کہ چرند پرند اس سے بھی زیادہ خوشحال ہوں۔یہ دنیا ایک عالم امتحان ہے۔اس کے حل کرنے کے واسطے دوسرا عالم ہے۔اس دنیا میں جو تکالیف رکھی ہیں اس کا وعدہ ہے کہ آئندہ عالَم میں خوشی دے گا۔اگر اب بھی کوئی کہے کہ کیوں ایسا کیا اور ایسا نہ کیا؟ اس کا یہ جواب ہے کہ وہ تحکم اور مالکیت بھی تو رکھتا ہے۔اس نے جیسا چاہا کیا کسی کو اس کے اس کام پر اعتراض کی گنجائش اور حق نہیں۔دوسری بات جو قابل غور ہے یہ ہے کہ چونکہ تکالیف انسانی، تکالیف حیوانی سے بڑھی ہوئی