ملفوظات (جلد 10) — Page 30
موجود ہے جو جزا سزا کا منکر ہے۔جو لوگ خدا کو رحیم نہیں مانتے ان کو تو بے پروا بھی کہہ سکتے ہیں مگر جو مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ والی صفت کو نہیں مانتے وہ تو خدا تعالیٰ کی ہستی سے بھی منکر ہوتے ہیں اور جب خدا کی ہستی ہی نہیں جانتے تو پھر جزا سزا کس طرح مانیں؟ غرض ان چارصفات کو بیان کر کے خدا فرما تا ہے کہ اے مسلمانو! تم کہو اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ یعنی اے چار صفتوں والے خدا! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور اس کام کے لئے مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں اور یہ جو حدیث شریف میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو چار فرشتوں نے اُٹھایا ہوا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کی ان چاروں صفات کا ظہور موجود ہے اور اگر یہ چار نہ ہوں یا چاروں میں سے ایک نہ ہو تو پھر خدا کی خدائی میں نقص لازم آتا ہے۔عرش کی حقیقت اور بعض لو گ نا سمجھی سے عرش کو جو ایک مخلوق چیز مانتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں اُن کو سمجھنا چاہیے کہ عر ش کوئی ایسی چیز نہیں جس کو مخلوق کہہ سکیں۔وہ تو تقدّس اور تنـزّہ کا ایک وراء الوراء مقام ہے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ جیسے ایک بادشاہ تخت پر بیٹھا ہو ا ہوتا ہے ویسے ہی خدا بھی عرش پر جلوہ گر ہے۔جس سے لازم آتا ہے کہ محدود ہے۔لیکن ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید میں اس با ت کا ذکر تک نہیں کہ عرش ایک تخت کی طرح ہے جس پر خدا بیٹھا ہے کیونکہ نعوذ باللہ اگر عرش سے مراد ایک تخت لیا جاوے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے تو پھر ان آیات کا کیا ترجمہ کیا جاوے گا۔جہاں لکھا ہے کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور جہاں تین ہیں وہاں چوتھا اُن کا خدا۔۱ اور جہاں چا ر ہیں وہاں پانچواں ان کا خدا ۲اور پھر لکھا ہے نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ ( قٓ: ۱۷ ) اور وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ( الـحدید :۵ ) غرض اس بات کو اچھی طرح سے یاد بدر سے۔’’جاہل نہیں سمجھتے کہ اگر قرآن میں ایک طرف اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى (طٰہٰ:۶) ہے تو دوسری طرف یہ بھی ہے کہ کوئی تین نہیں جس میں چوتھا وہ نہیں اور کوئی پانچ نہیں جس میں چھٹا وہ نہیں اور فرمایا کہ جہاں کہیں تم ہو میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۱ مورخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۵) ۲اس سے ظاہر ہے کہ بعض وقت ڈائری نویس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصل الفاظ نہیں لکھتے بلکہ مفہوم اور