ملفوظات (جلد 10) — Page 369
قرآن موجود ہے اور مولوی موجو د ہیں؟ یہ نہیں جانتے کہ ان کے مولوی جو ان بھیڑوں کے گلہ بان ہیں خود بھیڑیے ہیں اور وہ ریوڑ کیسے خطرہ میں ہے جس کا کوئی گلہ بان نہ ہو؟ اسلام پر اندرونی اور بیرونی حملے ہور ہے ہیں اور ماریں کھا رہا ہے۔پس ایسے شخص کی ضرورت تھی کہ مغالطے اور مشکلات دور کر کے پیچیدہ مسائل کو حل کر کے رستہ صاف کرتا اور اسلام کی اصلی روشنی اور سچا نور دوسری قوموں کے سامنے پیش کرتا۔دیکھو ایک وہ زمانہ تھا کہ عیسائی لو گ کہتے تھے کہ آنحضرتؐکی نہ کوئی پیشگوئی ہے نہ معجزہ۔مگر اب میرے سامنے کوئی نہیں آتا حالانکہ ہم بلاتے ہیں۔خدا کا یہی ارادہ تھا۔اس نے اپنے وعدہ کے موافق وقت پر اپنے دین کی خبر گیری اور دستگیری فرمائی ہے۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الـحجر:۱۰) اسلام کو اس نے دنیا میں قائم کیا، قرآن کی تعلیم پھیلائی اور اس کی حفاظت کا بھی وہی خود ذمہ دار ہے۔جب انسان اپنے لگائے ہوئے بوٹے کو التزام سے پانی دیتاہے تا وہ خشک نہ ہو جاوے تو کیا خدا انسان سے بھی گیا گزرا اور لا پروا ہے؟ یاد رکھو کہ اسلام نے جن راہوں سے پہلے ترقی کی تھی اب بھی انہی راہوں سے ترقی کرے گا۔خشک منطق ایک ڈائن ہے اس سے انجان آدمی کے اعتقاد میں خلل آجاتا ہے۔اور ظاہری فلسفے روحانی فلسفے کے بالکل مخالف ہیں۔صاحبان! یہ امور ہیں جن کی اصلاح کے واسطے میں بھیجا گیا ہوں میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس مجلس میں سے بعض ایسے بھی لوگ اٹھیں گے کہ ان میں کچھ بھی تبدیلی پیدا نہ ہو ئی ہو گی یا ان کے خیالات پر میری ان باتوں کا ذرّہ بھی اثر نہ ہوگا مگر یاد رکھو جو مجھ سے مقابلہ کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس سے مقابلہ کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اگر ادنیٰ چپڑاسی کی ہتک کی جائے اور اس کی بات نہ مانی جاوے تو گورنمنٹ سے ہتک کرنے والے یا نہ ماننے والے کو سزا ملتی ہے اور باز پرس ہوتی ہے تو پھر خدا کی طرف سے آنے والے کی بے عزتی کرنا اس کی بات کی پروا نہ کرنا کیوں کر خالی جاسکتا ہے؟ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر میرا سلسلہ خدا کی طرف سے نہیں تو یونہی بگڑ جائے گا خواہ کوئی اس کی مخالفت کرے یا نہ کرے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى(طٰہٰ:۶۲ ) اور