ملفوظات (جلد 10) — Page 368
آنحضرتؐکی تکذیب کرتے ہیں۔بات تو ایک ہی ہے قرآن میں خلیفہ کے آنے کی نصّ موجود ہے اور احادیث میں قربِ قیامت کے وقت آنے والے خلیفہ کانام مسیح رکھا گیا ہے۔اب ان میں اختلاف کیا ہے؟ ان الزامات کے سوادوسرے الزام بھی اسی قسم کے بے حقیقت اور ضد اور تعصب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ان سب کا ردّ مفصلا ً ہم نے اپنی کتابوں میں کر دیاہے۔ان لوگوں کے بعض عقائد تو ایسے ہیں جن سے ایک سچے مسلمان کا دل کانپ جاتا ہے۔مثلاً ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ کوئی بھی مَسِّ شیطان سے پاک نہیں بجز عیسیٰ علیہ السلام کے۔ان کا یہ مسئلہ کیسا قابل شرم ہے۔ہمارے نبی کریمؐ افضل الرسل، پاکوں کے سردار تو مَسِّ شیطان سے ( نعوذباللہ) پاک نہیں اور حضرت عیسیٰ ؑ پاک ہیں۔کیسا افسوس کا مقام ہے! خدا جانے مسلمان کہلا کر ان کو کیا ہوگیا؟ دیکھو! خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہے اور خود مسلمان آریوں اور عیسائیوں کے ہمزبان بنے ہوئے ہیں۔ہمارا اپنا سب سے پیارا نبی جس کی پیروی ہمارا فخر اور ہمارے واسطے باعث عزت اورموجب نجات ہے اگر وہ وفات پا چکے ہیں تو ہم عیسٰیؑ کو کیا کریں؟ بس یہ باتیں ہیں جن پر ہمیں کافر کہا جاتا ہے۔دجّال کہا جاتا ہے اور اسلام سے خارج کہا جاتا ہے اور ہم سے سلام علیکم کرنے، مصافحہ کرنے، ملاقات کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے ایسا متعدی کفر ہے۔اور تمام جماعت ایک کافروں کا مجموعہ ہے۔کیسا افسوس آتا ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ کے دین کی تجدید اور خدمت کرنے کے واسطے ہروقت کمر بستہ ہے اس کو گندی گالیاں نکالتے ہیں۔بُرے بُرے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔میرے صندوق بھرے پڑے ہیں ان کی گالیوں کے گندے خطوط سے۔بعض اوقات بیرنگ خط محصول ادا کر کے وصول کیا۔کھول کر دیکھا تو اس میں اوّل سے آخر تک بے نقط گالیوں کے سوا کچھ ہوتا ہی نہیں اور مولوی کہلا کر چوہڑے چماروں کی طرح گندی اور فحش گالیاں نکالتے ہیں کہ انسان کو پڑھتے ہوئے بھی شرم آجاتی ہے۔ابھی کہتے ہیں کہ اسلام کو کسی کی کیا ضرورت ہے جبکہ