ملفوظات (جلد 10) — Page 367
سخت سے سخت کوششیں کی ہیں مگر خدا کی قدرت سے بایں ہمہ ہماری ترقی ہی ہوتی گئی اور ہو رہی ہے۔حتی کہ اب چار لاکھ سے بھی زیادہ لوگ مختلف ممالک میں ہماری جماعت کے موجود ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ سمجھ دار لوگ جب سمجھ لیتے ہیں کہ یہی راہ دشمن پر غلبہ پانے کی ہے تو پھر وہ اس پر سچے دل سے قائم ہو جاتے ہیں۔اب ہمیں بتائیں کہ جن کا یہ مذہب ہے کہ حضرت عیسٰیؑ مَرے نہیں بلکہ زندہ ہیں اورآنحضرتؐوفات پاکر مدینے میں مدفون ہیں۔بتائیے انہوں نے آنحضرتؐکی عزت پر کیسا حملہ کیا ہے؟ اور پھر کہتے ہیں کہ وہی اسرائیلی نبی پھر دنیا میں آکر اُمت محمدیہ کی اصلاح اور تجدید دین کرے گا۔اب فرمائیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب ایک اسرائیلی نبی آگیا تو پھر آنحضرتؐکس طرح خاتم النبییّن رہے؟ اس اعتقاد سے تو خاتم النبییّن حضرت عیسٰیؑہوئے نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔حاشاو کلّا عیسٰی ؑتو خود براہ راست خدا کے نبی تھے۔کیا ان کی پہلی شریعت اور نبوت منسوخ ہو جائے گی؟ جب سورہ نور میں ہمیں صاف الفاظ میں وعدہ مل چکا ہے کہ جو آوے گا تم میں سے ہی آوے گا۔تمہارے غیر کو قدم رکھنے کی اب گنجائش نہیں اور بخاری میں بھی جواصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ موجود ہے اور پھر جب کہ ان کی وفات بھی صراحت سے قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہے تو کیوں ایسا اعتقاد رکھا جاتا ہےجو کہ سراسر قرآن شریف اور آنحضرتؐکے خلاف ایک عقیدہ ہے آنحضرتؐنے خود ان کو معراج کی رات میں وفات شدہ انبیاء کے ساتھ دیکھا۔اگر وہ زندہ تھے تو ان کے واسطے الگ کوئی مقام تجویز ہونا چاہیے تھا نہ کہ مُردوں میں۔زندہ کو مُردہ سے کیا تعلق اور کیا واسطہ؟ غرض خدا نے قول سے اور آنحضرتؐنے اپنے فعل سے ثابت کر دیا کہ وہ وفات پاچکے۔اب فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ (یونس:۳۳) مسلمان ہو کر قرآن اور قولِ رسولؐ کو قبول نہیں کرتے تو نہ کریں ان کا اختیار ہے۔میری تکذیب نہیں کرتے بلکہ اس کی جس کی طرف سے میں آیا ہوں اور اس کی جس کا میں غلام ہوں تکذیب کرتے ہیں۔میں کیا اور میری تکذیب کیا بلکہ یہ تو