ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 363

ظلمت کی انتہا کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بعض صفات کی وجہ سے کسی انسان کو اپنی طرف سے علم اور معرفت دے کر بھیجتا ہے اور اس کے کلام میں تاثیر اور اس کی توجہ میں جذب اور اس کی دعائیں مقبول ہو تی ہیں۔مگروہ ان ہی کو جذب کرتے ہیں اور ان ہی پر ان کی تاثیرات اثر کرتی ہیں جو اس انتخاب کے لائق ہوتے ہیں۔دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کانام سِرَاجًا مُّنِيْرًا ہے۔مگر ابوجہل نے کہاں قبول کیا؟ ؎ باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لالہ روید و در شورہ بوم و خس جس طرح بارش آسمانی سے زمینیں اپنی اپنی استعداد کے موافق روئیدگی پیدا کرتی ہیں۔کہیں خس و خاشاک اور کہیں گلاب کے پھول بعینہٖ یہی حال روحانی بارش کے وقت انسانی روحانیت کا ہے۔عادت اللہ اسی طرح پر ہے کوئی نرالی بات نہیں۔آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلہ وحی جاری رہا۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ تجدید دین کے واسطے مجدّد پیدا کرے گا۔تجدید کہتے ہیں ایک کپڑا جو میل کچیل سے آلود ہ ہو گیا ہو اس کو دھو کر صاف کر لیا جاوے اور میل اس سے قطعاً الگ کر دی جاوے اور بالکل نئے کی طرح کر دیا جاوے۔اسی طرح جب دین میں ایک زمانہ گذرنے کے بعد عقائد اور اعمال میں طرح طرح کے گند داخل ہو جاتے ہیں اور ایمان کی بنا صرف پرانے قصہ کہانیوں پر ہی رہ جاتی ہے اور قصوں کے سوائے کچھ ہاتھ میں نہیں رہتا تو اللہ تعالیٰ نے ایسی حالت میں اسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ وعدہ دیا ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایسے شخص بھیجتا رہے گا جو تجدید دین کیا کریں گے مگر چودھویں صدی کا سرا تو بجائے خود چھبیس برس بھی گذر گئے۔آنے والا حسب وعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عین وقت پر آگیا مگر یہ لوگ اب تک بھی شک میں ہیں۔بعض الزامات کا جواب اور مجھ پر خواہ مخواہ جھوٹ اور تہمت سے الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ میں پیغمبروں کو گالیاں دیتا ہوں مگر کیسا ہی خبیث اور ملعون ہے وہ شخص جو کہ برگزیدہ بندوں کا انکار کرے یا ان کی کسی طرح سے اپنے قول سے یا فعل سے توہین کرے۔