ملفوظات (جلد 10) — Page 362
کے واسطے دعا کی جاوے یا اس کا شکریہ ادا کیا جاوے۔نیکی محض اس جوش کے تقاضا سے کرتا ہے جو ہمدردی بنی نوع انسان کے واسطے اس کے دل میں رکھا گیا ہے۔ایسی پاک تعلیم نہ ہم نے توریت میں دیکھی ہے اور نہ انجیل میں۔ورق ورق کرکے ہم نے پڑھا ہے مگر ایسی پاک اور مکمل تعلیم کا نام و نشان نہیں۔اس زمانہ میں مصلح اور مجدّد کی ضرورت اس وقت دنیا میں تاریکی بہت پھیلی ہوئی ہے۔خدا کی کتاب پر عمل کرنے کے واسطے جو قوت درکار ہے اس میں بہت کمزوری ہے۔خدا کی یہ قدیم سے عادت چلی آئی ہے کہ جب دنیا میں گناہ کی ظلمت پھیل جاتی ہے لوگ زندگی کے مقصد اصلی سے دور جا پڑتے ہیں۔اس وقت اللہ تعالیٰ خود اپنی طرف سے ایمانوں کو تازہ کرنے کے واسطے انتظام کرتا ہے اور مصلح اور مجدّد مبعوث کرتا ہے۔سفلی ریفارمر اس وقت کچھ نہیں کرسکتے خدا کے مقرر کردہ لوگوں ہی کا یہ منصب ہوتا ہے کہ دلوں پر قابو پاکر ان میں پاک زندگی پیدا کرجاتے ہیں۔خدا کی طرف سے روحانی اصلاح کے لئے مقرر ہونے والے لوگ چراغ کی طرح ہوتے ہیں۔اسی واسطے قرآ ن شریف میں آپؐکانام دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا (الاحزاب: ۴۷) آیا ہے۔دیکھو! کسی اندھیرے مکان میں جہاں سو پچاس آدمی ہوں اگر ان میں سے ایک کے پاس چراغ روشن ہو تو سب کو ا س کی طرف رغبت ہوگی اور چراغ ظلمت کو پاش پاش کرکے اجالا اور نور کر دے گا۔۱ اس جگہ آپ کانام چراغ رکھنے میں ایک اورباریک حکمت یہ ہے کہ ایک چراغ سے ہزاروں لاکھوں چراغ روشن ہو سکتے ہیں اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں آتا۔چاند سورج میں یہ بات نہیں۔اس سے مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت کرنے سے ہزاروں لاکھوں انسان اس مرتبہ پر پہنچیں گے اور آپ کا فیض خاص نہیں بلکہ عام اور جاری ہوگا۔غرض یہ سنّت اللہ ہے کہ بدر سے۔’’چراغ والا اندر اندھیرے میں چلا جائے تو یکدم سب مکان جگمگا اُٹھتا ہے پھر ہر ایک کو اس کی طرف رغبت ہو جاتی ہے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۵ ؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۸ )