ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 29

جب بڑے بڑے مجاہدات کئے تو آخر خدا نے اپنے دروازے ان پر کھول دئیے لیکن وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی اس صفت کو نہیں مانتے عموماً ان کا یہی مقولہ ہوتا ہے کہ میاں ہماری کوششوں میں کیا پڑا ہے جو کچھ تقدیر میں پہلے روز سے لکھا ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔ہماری محنتوں کی کوئی ضرورت نہیں، جو ہونا ہے وہ آپ ہی ہو جائے گا۔اور شاید چوروں اور ڈاکوؤں اور دیگر بد معاشوں کا اندر ہی اندر یہی مذہب ہوتا ہوگا۔غرض یہ با ت یاد رکھنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے فعل دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ ہیں جن میں اعمال کا کوئی دخل نہیں جیسے سورج، چاند، ہوا وغیرہ جو خدا تعالیٰ نے بغیر ہمارے کسی عمل کے ہمارے وجود میں آنے سے بھی پیشتر اپنی قدرتِ کا ملہ سے تیار کر رکھے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جن میں اعمال کا دخل ہے اور عابد، زاہد اور پرہیز گار لوگ عبادت کرتے اور پھر اپنا اجر پاتے ہیں۔سورۃ فاتحہ میں غلط عقائد کی تردید (۱) اب تین فرقوں کی با بت تو تم سن چکے ہو یعنی ایک فرقہ تو وہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو رَبّ نہیں سمجھتا اور ذرّہ ذرّہ کو اس کا شریک ٹھہراتا ہے اور یہ مانتا ہے کہ ارواح اور ذرّاتِ عالَم کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی طاقت سے باہر ہے اور جیسے خو د بخود خدا ہے ویسے ہی وہ بھی خود بخود ہے اس لئے ربُّ العالمین کہہ کر اس فرقہ کی تردید کی گئی ہے۔(۲) دوسرا فرقہ وہ ہے جو سمجھتا ہے کہ خدا اپنے فضل سے کچھ نہیں دے سکتا جو کچھ بھی ہمیں ملا ہے اور ملے گا وہ ہمارے اپنے کرموں کا پھل ہے اور ہوگا۔اس لئے لفظ رَحْـمٰن کے ساتھ ا س کا رَدّ کیا گیا ہے۔(۳) اور اس کے بعد اَلرَّحِیْم کہہ کر اس فرقہ کی تردید کی گئی ہے جو اعمال کو غیر ضروری خیا ل کرتے ہیں۔( ۴) اب ان تینوں فرقوں کا بیا ن کر کے فرمایا مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ یعنی جزا سزا کے دن کا مالک اور اس سے اس گروہ کی تردید مطلوب ہے جو کہ جزا سزا کا قائل نہیں کیونکہ ایسا ایک فرقہ بھی دنیا میں