ملفوظات (جلد 10) — Page 361
نیکی نہ کرو جس نے تم سے نیکی کی ہو بلکہ احسان کے طور پر بھی جو کہ کوئی حق نہ رکھتا ہو کہ اس سے نیکی کی جاوے اس سے بھی نیکی کرو۔مگر احسان میں بھی ایک قسم کا باریک نقص اور مخفی تعلق اس شخص سے رہ جاتا ہے جس سے احسان کیا گیا ہے کیونکہ کبھی کسی موقع پر اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہو جائے جو اس محسن کے خلافِ طبیعت ہو یا نافرمانی کر بیٹھے تو محسن ناراض ہو کر اس کو احسان فراموش یا نمک حرام وغیرہ کہہ دے گا اور اگر چہ وہ شخص اس بات کو دبانے کی کوشش بھی کرے گا مگر پھر اس میں ایک ایسا مخفی اور باریک رنگ میں نقص باقی رہ جاتا ہے کہ کبھی نہ کبھی ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔اسی واسطے اس نقص اور کمی کی تلافی کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ احسان سے بھی آگے بڑھو اور ترقی کرکے ایسی نیکی کرو کہ وہ ایتاء ذی القربیٰ کے رنگ میں رنگین ہو یعنی جس طرح سے ایک ماں اپنے بچے سے نیکی کرتی ہے۔ماں کی اپنے بچے سے محبت ایک طبعی اور فطری تقاضا پر مبنی ہے نہ کہ کسی طمع پر۔دیکھو! بعض اوقات ایک ماں ساٹھ برس کی بڑھیا ہوتی ہے اس کو کوئی توقع خدمت کی اپنے بچے سے نہیں ہو تی کیونکہ اس کو کہاں یہ خیال ہوتا ہے کہ میں اس کے جوان اور لائق ہونے تک زندہ بھی رہوں گی۔غرض ایک ماں کا اپنے بچے سے محبت کرنا بلاکسی خدمت یا طمع کے خیال کے فطرتِ انسانی میں رکھا گیا ہے۔ماں خود اپنی جان پر دکھ برداشت کرتی ہے مگر بچے کو آرام پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔خود گیلی جگہ لیٹتی ہے اور اسے خشک حصہ بستر پر جگہ دیتی ہے۔بچہ بیمار ہو جائے تو راتوں جاگتی اور طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتی ہے۔اب بتائو کہ ماں جو کچھ اپنے بچے کے واسطے کرتی ہےا س میں تصنّع اور بناوٹ کا کوئی بھی شعبہ پایا جاتا ہے؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احسان کے درجہ سے بھی آگے بڑھو اور ایتا ء ذی القربیٰ کے مرتبہ تک ترقی کرو اور خلق اللہ سے بغیر کسی اجر یا نفع و خدمت کے خیال سے طبعی اور فطری جوش سے نیکی کرو تمہاری خلق اللہ سے ایسی نیکی ہو کہ اس میں تصنّع اور بناوٹ ہر گز نہ ہو۔ایک دوسرے موقع پر یوں فرمایا ہے لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا (الدھر: ۱۰) یعنی خدا رسیدہ اعلیٰ ترقیات پر پہنچے ہوئے انسان کا یہ قاعدہ ہے کہ ا س کی نیکی خالصاً للہ ہو تی ہے اور اس کے دل میں یہ بھی خیال نہیں ہوتا کہ اس