ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 360

ازلی ابدی مانتے ہیں۔وہ کیوں کر اِنَّالِلّٰهِ کہہ سکتے ہیں اور یہ توفیق ان کو کیسے نصیب ہو سکتی ہے؟ غرض تکالیف دو ہی قسم کی ہیں ایک حصہ تو وہ ہے جو احکام پر مشتمل ہے جن میں نماز، روزہ، زکوٰۃ حج وغیرہ داخل ہیں۔ان میں کسی قدر عذر اور حیلے وغیرہ کی بھی گنجائش ہے اور جب تک پورااخلاص اور کامل یقین نہ ہو انسان ان سے کسی نہ کسی قدر بچنے کی یا آرام کی صورت پیدا کرنے کی کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتا ہے۔پس اس طرح کی کوئی کسر جو انسانی کمزوری کی وجہ سے رہ گئی ہو اس کسر کے پورا کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے تکالیف قضا و قدر رکھ دی ہیں تاکہ انسانی فطرت کی کمزوری کی وجہ سے جو کمی رہ گئی ہو خدا کے فضل کے ہاتھ سے پوری ہو جاوے۔تکالیف قضا و قدر کانام آریہ لوگ پہلی جون کا پھل رکھتے ہیں۔مگر ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر تمہارے جپ تپ کس مرض کی دوا ہیں۔اگر آسمانی تکالیف تمہار ے پہلے اعمال کا نتیجہ ہیں تو کیوں ایک اور عذاب جپ تپ کی مصیبت میں پڑکر اپنے واسطے پیدا کرتے ہو؟ غرض یہ دونوں سلسلے کہ کبھی انسان تکالیف شرعیہ کی پابندی کرکے اپنے ہاتھوں اور کبھی قضا و قدر کے آگے گردن جھکاتا ہے اس واسطے ہیں کہ انسان کی تکمیل ہو جاوے۔اسی کی طرف اشارہ کرکے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بَلٰى مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ (البقرۃ:۱۱۳) یعنی اسلام کیا ہے؟ یہی کہ اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے حصول کے واسطے گردن ڈال دینا۔ابتلائوں کا ہیبت ناک نظارہ لڑائی میں ننگی تلواروں کی چمک اور کھٹا کھٹ کی طرح آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔جان جانے کا اندیشہ ہے مگر کسی بات کی پروا نہ کرکے خدا کے واسطے یہ سب کچھ اپنے نفس پروارد کر لینا یہ ہے اسلام کی تعلیم کی لُبِّ لُباب۔حقوق العباد کی ادائیگی کے تین مراتب دوسراحصہ خلق اللہ اور حق العباد کے متعلق ہے۔اس کے متعلق قرآنی تعلیم یوں بیان ہوئی کہ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى (النحل: ۹۱) پہلے فرمایا کہ عدل کرو۔پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر فرمایا احسان کا بھی خدا نے تم کو حکم کیا ہے یعنی صرف اسی سے