ملفوظات (جلد 10) — Page 359
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۹ جلد دہم انسان کے واسطے ترقی کرنے کے دو ہی طریق ہیں ۔ اوّل تو ترقی کرنے کے دو طریق انسان تشریعی احکام یعنی نماز، روزہ، زکوۃ اور حج وغیرہ تکالیف شرعیہ کی پابندی سے جو کہ خدا کے حکم کے موجب خود بجالا کر کرتا ہے مگر یہ امور چونکہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ اس لئے کبھی ان میں سستی اور تساہل بھی کر بیٹھتا ہے اور کبھی ان میں کوئی آسانی اور آرام کی صورت ہی پیدا کر لیتا ہے۔ لہذا دوسرا وہ طریق ہے جو براہ راست خدا کی طرف سے انسان پر وارد ہوتا ہے اور یہی انسان کی اصلی ترقی کا باعث ہوتا ہے۔ کیونکہ تکالیف شرعیہ میں انسان کوئی نہ کوئی راہ بچاؤ یا آرام و آسائش کی نکال ہی لیتا ہے۔ دیکھو! کسی کے ہاتھ میں تا زیا نہ دے کر اگر اسے کہا جاوے کہ اپنے بدن پر مارو تو قاعدہ کی بات ہے کہ آخر اپنے بدن کی محبت دل میں آہی جاتی ہے۔ کون ہے جو اپنے آپ کو دکھ میں ڈالنا چاہتا ہے؟ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے انسانی تکمیل کے واسطے ایک دوسری راہ رکھ دی اور فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمُ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرة: ۱۵۶ ، ۱۵۷) ہم آزماتے رہیں گے تم کو کبھی کسی قدر خوف بھیج کر کبھی فاقہ سے کبھی مال جان اور پھلوں پر نقصان وارد کرنے سے ۔ مگر ان مصائب شدائد اور فقر وفاقہ پر صبر کر کے اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ( البقرۃ: ۱۵۷) کہنے والوں کو بشارت دے دو کہ ان کے واسطے بڑے بڑے اجر خدا کی رحمتیں اور اس کے خاص انعامات مقرر ہیں۔ دیکھو! ایک کسان کس محنت اور جانفشانی سے قلبہ رانی کر کے زمین کو درست کرتا ، پھر تخم ریزی کرتا ، آبپاشی کی مشکلات جھیلتا ہے۔ آخر جب طرح طرح کی مشکلات محنتوں اور حفاظتوں کے بعد کھیتی تیار ہوتی ہے تو بعض اوقات خدا کی بار یک در بار یک حکمتوں سے ژالہ باری ہو جاتی یا کبھی خشک سالی ہی کی وجہ سے کھیتی تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ غرض یہ ایک مثال ہے ان مشکلات کی جن کا نام تکالیف قضا و قدر ہے ۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو جو پاک تعلیم دی گئی ہے وہ کیسی رضا بالقضاء کا سچانمونہ اور سبق ہے اور یہ بھی صرف مسلمانوں ہی کا حصہ ہے۔ آریہ جو کہ روح اور ذرات کو مع ان کے خواص کے خود بخود اور خدا کی طرح