ملفوظات (جلد 10) — Page 358
دعائیں کیا کرو۔مگر اکثریہی دیکھا گیا ہے کہ نمازیں تو ٹکریں مار کر پوری کر لی جاتی ہیں پھر لگتے ہیں دعائیں کرنے۔نماز تو ایک ناحق کا ٹیکس ہوتا ہے۔اگر کچھ اخلاص ہوتا ہے تونماز کے بعد میں ہوتا ہے۔یہ نہیں سمجھتے کہ نماز خود دُعا کا نام ہے جو بڑے عجز،انکسار، خلوص اوراضطراب سے مانگی جاتی ہے۔بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی کُنجی صرف دعاہی ہے۔خدا کے فضل کے دروازے کھولنے کا پہلا مرحلہ دعاہی ہے۔نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں بلکہ ایسے نمازیوں پر تو خود خدا نے لعنت اور وَیْل بھیجا ہے چہ جائیکہ ان کی نماز کو قبولیت کا شرف حاصل ہو۔وَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۠(الماعون :۵) خود خدا نے فرمایا ہے۔یہ ان نمازیوں کے حق میں ہے جونما ز کی حقیقت سے اوراس کے مطالب سے بےخبر ہیں۔صحابہ ؓ توخود عربی زبان رکھتے تھے اوراس کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے۔مگر ہمارے واسطے یہ ضروری ہے کہ اس کے معانی سمجھیں اوراپنی نماز میں اس طرح حلاوت پیدا کریںمگر ان لوگوں نے تو ایسا سمجھ لیا ہے جیسے کہ دوسرا نبی آگیا ہے اور اس نے گویا نماز کو منسوخ ہی کردیا ہے۔دیکھو خدا کا اس میں فائدہ نہیں بلکہ خود انسان ہی کا اس میںبھلا ہے کہ اس کو خدا کی حضور ی کا موقع دیا جاتا ہے اور عرض معرو ض کرنے کی عزت عطا کی جاتی ہے جس سے یہ بہت سی مشکلات سے نجات پاسکتا ہے۔میں حیران ہوں کہ وہ لوگ کیوں کر زندگی بسر کرتے ہیں جن کا دن بھی گذر جاتا ہے اور رات بھی گذر جاتی ہے مگروہ نہیں جانتے کہ ان کا کوئی خدا بھی ہے۔یاد رکھو کہ ایساانسان آج بھی ہلاک ہوا اورکل بھی۔۱ میں ایک ضروری نصیحت کرتا ہوں۔کاش لوگوں کے دل میں پڑجاوے۔دیکھو! عمر گذری جارہی ہے غفلت کو چھوڑو اورتضرّع اختیار کرو۔اکیلے ہوہو کر خدا سے دعاکرو کہ خدا ایمان کو سلامت رکھے اور تم پروہ راضی اورخوش ہوجائے۔۱ بدر سے۔’’یہ بات سن لوکہ دنیا فانی ہے۔بی بی بھی ہے بھائی بھی۔سب رشتہ دار ہیں، مال ودولت ہے یہ سب کچھ لیکن جب تک خدا کو اپنی سپر نہیںبناتا توکچھ بھی نہیں۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۲۵مورخہ ۲۵؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷)