ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 357

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۷ جلد دہم تعاہد سے اس بڑھیا کی جو کہ اور کچھ نہ کھا سکتی تھی خدمت کیا کرتے تھے کہ ایک دن حلوا نہ پہنچنے سے اس کو یقین ہو گیا کہ آپ وفات پاگئے یعنی اس بڑھیا کے وہم میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ آپ زندہ ہوں اور اس کو حلوا نہ پہنچے یہ ممکن ہی نہ تھا۔ غرض یہ ہے اخلاص اور یہ ہیں محض خدا کی راہ میں نیک نیتی کے اعمال ۔ اخلاص جیسی اور کوئی تلوار دلوں کو فتح کرنے والی نہیں ۔ ایسے ہی امور سے وہ لوگ دنیا پر غالب آ گئے تھے۔ صرف زبانی باتوں سے کچھ ہو نہیں سکتا ۔ اب نہ پیشانی میں نور اور نہ روحانیت ہے اور نہ معرفت کا کوئی حصہ۔ خدا ظالم نہیں ہے۔ اصل بات ہی یہی ہے کہ ان کے دلوں میں اخلاص نہیں ۔ صرف ظاہری اعمال سے جو نماز کو رسم اور عادت کے رنگ میں پڑھنا مفید نہیں رسم اور عادت کے رنگ میں کئے جاتے ہیں کچھ نہیں بنتا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں نماز کی تحقیر کرتا ہوں۔ وہ نماز جس کا ذکر قرآن میں ہے اور وہ معراج ہے۔ بھلا ان نمازیوں سے کوئی پوچھے تو سہی کہ ان کو سورہ فاتحہ کے معنے بھی آتے ہیں۔ پچاس پچاس برس کے نمازی ملیں گے مگر نماز کا مطلب اور حقیقت پوچھو تو اکثر بے خبر ہوں گے حالانکہ تمام دنیوی علوم ان علوم کے سامنے ہیچ ہیں۔ بایں دنیوی علوم کے واسطے تو جان توڑ محنت اور کوشش کی جاتی ہے اور اس طرف سے ایسی بے التفاتی ہے کہ اسے جنتر منتر کی طرح پڑھ جاتے ہیں۔ میں تو یہاں تک بھی کہتا ہوں کہ اس بات سے مت رکو کہ نماز میں اپنی زبان میں دعائیں کرو۔ بے شک اردو میں ، پنجابی میں ، انگریزی میں، جو جس کی زبان ہو اسی میں دعا کر لے۔ مگر ہاں یہ ضروری ہے کہ خدا کے کلام کو اسی طرح پڑھو۔ اس میں اپنی طرف سے کچھ مت دخل دو۔ اس کو اس طرح پڑھو اور معنے سمجھنے کی کوشش کرو۔ اسی طرح ماثورہ دعاؤں کا بھی اسی زبان میں التزام رکھو۔ قرآن اور ماثورہ دعاؤں کے بعد جو چاہو خدا سے مانگو اور جس زبان میں چاہو مانگو۔ وہ سب زبانیں جانتا ہے۔ سنتا ہے قبول کرتا ہے۔ اگر تم اپنی نماز کو با حلاوت اور پر ذوق بنانا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ