ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 354

نہ کرے۔جنگ کے موقع پر سپاہی جانتا ہے کہ میں موت کے منہ میں جا رہا ہوں اوراسے بہ نسبت زندہ پھرنے کے مَرنا یقینی نظر آتا ہے مگر بایں ہمہ وہ اپنے افسر کی فرمانبرداری اوروفاداری کرکے آگے ہی بڑھتا ہے اور کسی خطرے کی پروانہیں کرتا اس کا نام اسلام ہے۔غرض ایک فقرہ (لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ )میں تواللہ تعالیٰ نے توحید سکھائی ہے اور دوسرے (مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ )میں یہ سکھایا کہ اس توحید پر سچے اورزندہ ایمان کا ثبوت اپنے اس فعل سے دو اور خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو۔اس بات کو توجہ سے سننا چاہیے۔مسلمانوں کے واسطے یہ ایک مفید مسئلہ ہے۔صرف اس بات سے راضی نہ ہونا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں یا ظاہر ی نماز روزے کی پابندی کرتے ہیں۔خطرناک مشکلات میں ثابت قدم رہنا اورقدم آگے ہی آگے اٹھانا اورخدائی امتحان میں پاس ہوجانا سچے اورحقیقی ایمان کی دلیل ہے۔مشکلات کا آنا اور ابتلائو ں کا آنا مومن پر ضروری ہے تاظاہر ہوکہ کون سچا مومن اور کون صرف زبانی ایمان کا مدعی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳) مسلمانوں کے صدرنے عمل سے ثابت کیا تھا کہ واقعی انہوںنے اپنی زندگیاں اللہ کے دین کی خدمت کے واسطے وقف کردی تھیں کوئی دین ترقی نہیں کرسکتا جب تک خدا کے احکام کو دنیا کے کل کاموں پر مقدم نہ کیا جاوے۔معمولی نماز روزے زکوٰۃ وغیرہ اعمال توکرتے کرتے آخر عادت میں داخل ہو جاتے ہیں۔مثنوی رومی میں ایک شعر میں یہ مضمون خوب اداکیا گیا ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ’’ہم اپنے کوٹھے میں غلہ بھرتے رہتے ہیں مگر وہ بھرنے میں نہیں آتا۔جب دیکھو خالی ہی نظر آتا ہے۔آخر کوئی چوہا تو ہے جو اس کوٹھے کو لگا ہواہے اس کا اناج کھائے جاتا ہے اور اسے خالی کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ہم بھر تے ہیں وہ خالی کرتا ہے۔آخر کار دروازہ کھول کردیکھا توواقعی ایک چوہا تھا کہ اس غلہ کو کھاجایا کرتا تھا۔‘‘ پس انسان کو اپنے اعمال پر ہی راضی نہ ہونا چاہیے۔ریاکاری سے اعمال حبط ہو جاتے ہیں بعض بدیوںسے بعض اعمال حبط بھی ہوجاتے ہیں۔ریاکاری بھی حبط اعمال کے واسطے