ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 28

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸ جلد دہم کرموں کی وجہ سے ۔ الغرض یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن سے منکر ہیں ۔ وہ خدا جس نے زمین ،سورج ، چاند، ستارے وغیرہ پیدا کئے اور ہوا پیدا کی تا کہ ہم سانس لے سکیں اور ایک دوسرے کی آواز سن سکیں ۔ اور روشنی کے لیے سورج چاند وغیرہ اشیاء پیدا کیں اور اس وقت پیدا کیں جب کہ ابھی سانس لینے والوں کا وجود اور نام و نشان بھی نہ تھا۔ تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے ہی اعمال کی وجہ سے پیدا کیا گیا ہے ۔ کیا کوئی اپنے اعمال کا دم مار سکتا ہے؟ کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ سورج ، چاند، ستارے، ہوا وغیرہ میرے اپنے عملوں کا پھل ہے کہ غرض خدا کی صفت رحمانیت اس فرقہ کی تردید کرتی ہے جو خدا کو بلا مبادلہ یعنی بغیر ہماری کسی محنت اور کوشش کے بعض اشیاء کے عنایت کرنے والا نہیں مانتے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ کی صفت الرحیم کا بیان ہے یعنی اعمال اور مجاہدات کی ضرورت محنتوں کو شوں اور اعمال پر ثمرات حسہ مرتب کرنے والا ۔ حسنه یہ صفت اس فرقہ کورڈ کرتی ہے جو اعمال کو بالکل لغو خیال کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں نماز کیا ، روزے کیا ؟ اگر غفور الرحیم نے اپنا فضل کیا تو بہشت میں جائیں گے نہیں تو جہنم میں اور کبھی کبھی یہ لوگ اس قسم کی باتیں بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ میاں عبادتیں کر کے ولی تو ہم نے تھوڑا ہی بننا ۔ کچھ کیتا کیتا نہ کیتا نہ سہی، غرض الرَّحِیم کہہ کر خدا ایسے ہی لوگوں کا رڈ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ جو محنت کرتا ہے اور خدا کے عشق اور محبت میں محو ہو جاتا ہے وہ دوسروں سے ممتاز اور خدا کا منظور نظر ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی خود دستگیری کرتا ہے جیسے فرما یا وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت : ۷۰ ) یعنی جو لوگ ہماری خاطر مجاہدات کرتے ہیں آخر ہم ان کو اپنا راستہ دکھا دیتے ہیں ۔ جتنے اولیاء ، انبیاء اور بزرگ لوگ گزرے ہیں انہوں نے خدا کی راہ میں وو لے بدر سے ۔ یہ لوگ بھولے ہوئے اور کفر میں گرفتار ہیں ۔ سچی بات یہی ہے کہ اللہ کا فضل ہے کئی نعمتیں ایسی ہیں جن میں اعمال کا دخل نہیں اور کئی ایسی ہیں جن میں اعمال کا دخل ہے جیسے عابدزاہد بندگی کرتے ہیں اور اس کا اجر ملتا ہے۔“ ( بدر جلدے نمبر ا مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه (۵)