ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 350

آئی تھی۔اس کو زبردستی اورخواہ نخواہ تمام دنیا پر محیط ہونے کے واسطے کھینچ تان کی جائے گی تو اس کا لازماً یہی نتیجہ ہوگا کہ وہ اس کام سے عاری رہے گی جس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے وہ وضع ہی نہیں کی گئی اس کی کیسے متحمل ہوسکے گی؟ اوریہی وجہ ہے کہ ان تعلیمات میں موجودہ زمانہ کے حالات کے ماتحت نقص ہیں۔مگر قرآن مجید مختص الزمان نہیں، مختص القوم نہیں اور نہ ہی مختص المکان ہے بلکہ اس کامل اورمکمل کتاب کے لانے والے کا دعویٰ ہے کہ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف:۱۵۹) اور ایک دوسری آیت میں یوں بھی آیا ہے لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ (الانعام:۲۰) یعنی لازمی ہوگا کہ جس کو قرآنی تعلیم پہنچے وہ خواہ کہیں بھی ہو اور کوئی بھی ہو اس تعلیم کی پیروی کواپنی گردن پر اٹھائے۔انسانی فطرت کا پورا اور کامل عکس صرف قرآن شریف ہی ہے۔اگر قرآن نہ بھی آیا ہوتا جب بھی اسی تعلیم کے مطابق انسان سے سوال کیا جاتا کیونکہ یہ ایسی تعلیم ہے جو فطرتوں میں مرکوز اور قانون قدرت کے ہر صفحہ میں مشہود ہے۔جن کی تعلیمات ناقص اور خاص قوم تک محدود ہیں اوروہ آگے ایک قدم بھی نہیں چل سکتیں۔ان کی نبوت کا دروازہ بھی ان کے اپنے ہی گھر تک محدود ہے۔مگر قرآن شریف کہتا ہے اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ (فاطر:۲۵) دیکھو! یہ کیسی پاک اوردل میں دخل کرجانے والی بات اور کیسا سچا اصول ہے مگر یہ لوگ ہیں کہ خدا کی خدائی کو صرف اپنے ہی گھر تک محدود خیال کرتے ہیں۔یہی حال آریو ں کا ہے وہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیشہ وید ہی اتارا جاتا ہے اورصرف چار آدمی ہی اس کام کے واسطے مخصوص ہیں اورہمیشہ کے واسطے زبان سنسکرت ہی خدا کو پسند آگئی ہے۔مجال نہیں کہ خدا کی یہ نعمت وحی والہام کسی اورانسان یازبان کو مل سکے۔ان لوگوں کے اعتقاد کے موجب وحی الٰہی اب آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اوراب ہمیشہ کے واسطے اس کو مہر لگ چکی ہے مگر یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح سے تو خدا کی ہستی کے ثبوت میں ہی مشکلات پڑجاویں گی۔صرف شنید سے انسان کب مطمئن ہوسکتا ہے اور کامل یقین اورسچی معرفت صرف دوسروں کی زبانی