ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 348

توریت کی تعلیم کو دیکھا جاوے تووہ افراط کی طرف جھکی ہوئی ہے اور اس میں بھی صرف ایک ہی پہلو پر زور دیا گیا ہے کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ اورکان کے بدلے کان اوردانت کے بدلے دانت توڑ دیا جاوے۔اس میں عفو اور درگذر کا نام تک بھی نہیں لیا گیا۔اصل بات یہ ہے کہ یہ کتابیں مختص الزمان اور مختص القوم ہی تھیں مگر قرآن شریف نے ہمیں کیا پاک راہ بتائی ہے جو افراط اور تفریط سے پاک اور عین فطرت انسانی کے مطابق ہے مثلاً مثال کے طور پر قرآن شریف میں فرمایا ہے جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ(الشوریٰ:۴۱)یعنی جتنی بدی کی گئی ہو اسی قدر بدی کرنی جائز ہے مگر اگر کوئی معاف کردے اور اس معافی میں اصلاح مدّ ِنظر ہو۔بے محل اوربے موقع عفو نہ ہوبلکہ برمحل ہو تو ایسے معاف کرنے والے کے واسطے اس کا اجر ہے جواسے خدا سے ملے گا۔دیکھو! کیسی پاک تعلیم ہے نہ افراط نہ تفریط۔انتقام کی اجازت ہے مگر معافی کی تحریص بھی موجود ہے۔بشرط اصلاح یہ ایک تیسر امسلک ہے جو قرآن شریف نے دنیا کے سامنے رکھا ہے۔اب ایک سلیم الفطرت انسان کا فرض ہے کہ ان میں خود موازنہ اورمقابلہ کرکے دیکھ لے کہ کونسی تعلیم فطرتِ انسانی کے مطابق ہے اورکونسی تعلیم ایسی ہے کہ فطرت صحیح اور کانشنس اسے دھکے دیتی ہے۔یہودیوں میں باپ اپنی اولاد کو وصیت کرتا تھا کہ میرا انتقام میر ابیٹا لے، میرا پوتا لے۔چنانچہ بعض اوقات بیٹا اور پوتا باپ کے انتقام لیتے تھے۔غرضیکہ توریت میں تو سخت تشدد کیا گیا تھا۔باقی رہی انجیل۔سواس کی اخلاقی تعلیم پر ناز کرنے والے نہیں سمجھتے کہ اوّل تو وہ تعلیم ہی ایسی ناقص ہے کہ بوجہ مختص الزمان اور مختص القوم ہونے کے آج اس کی ضرورت ہی نہیں اور نہ وہ اس وقت اخلاقی تعلیم کہلانے کی مستحق ہے اوراگر مان بھی لیا جائے توکوئی شخص نہیں کہ اس تعلیم کا عامل نظر آتا ہو۔خود اس کے شیفتہ لوگ ہی اس کا عملی نمونہ پیش کریں۔اصل میں یہ ہاتھی کے دانت ہیں کھانے کے اَور دکھانے کے اَور۔تاہم فلسفہ حقّہ اس کے بالکل خلاف ہے۔انسان ایک شاخ دار درخت ہے اور انجیلی تعلیم اس کی صرف ایک شاخ۔کیا باقی قوائے انسانی بے کار ہیں؟