ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 347

تھا تاکہ دنیا کو دکھا دے کہ اُمّی لوگوں نے قرآنی تعلیم کے نیچے آکر کیا کچھ کردکھایا کہ بڑے بڑے علوم کے مدعیوں سے بھی ان کے مقابلہ میں کچھ بن نہ آیا۔قرآن کریم کی پاک تعلیم کا انجیل سے موازنہ خدا خوب جانتا تھا کہ اس زمانہ میں کیسے کیسے جدید علوم پیدا ہوں گے اور خود مسلمانوں میں کیسے کیسے خیالات کے لوگ پیدا ہوجائیں گے؟ ان سب باتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دے رکھا ہے اورکوئی نئی تحقیقات یا علمی ترقی نہیں جو قرآن شریف کو مغلوب کرسکے اورکوئی صداقت نہیں کہ اب پیدا ہوگئی ہو اوروہ قرآن شریف میں پہلے ہی سے موجود نہ ہو۔جوراہ قرآن شریف نے پیش کی ہے وہ نہ انجیل میں پائی جاتی ہے نہ توریت میں اس کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی اور کتاب اس کمال اور جامعیت کا دعویٰ کرسکتی ہے جواللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے قرآن شریف کو عطا کی ہے۔قرآن کے مقابل پر ان کا ذکر ہی کیا ہے! انجیل نے ایک ضعیف ناتواں انسان کو خدا بنایا مگر اس کی طاقت کا اندازہ قوم یہود کے مقابلہ سے ہی ہوسکتا ہے۔دوسری بات اورمایہ ناز انجیل کی اخلاقی تعلیم تھی مگروہ ایسی بودی اور نامکمل ہے کہ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کی پابندی نہیں کرسکتا بلکہ خود پادری صاحبان کاعمل بھی اس تعلیم کے بالکل برخلاف ہے۔مثلاً انجیل تعلیم دیتی ہے کہ اگر تجھے کوئی ایک طمانچہ مارے توتودوسری گال پھیردے اوراگر کوئی تیراکر تہ مانگے تو اس کو چادر بھی اتار دے۔اوراگر کوئی تجھے ایک کوس بیگا ر میں لے جانا چاہے تو دو کوس اس کے ساتھ چل۔اب ہم اوّل ان انجیل کی حمایت اورتعریف کرنے والے پادری صاحبوں سے ہی دریافت کرتے ہیں کہ ان کا اس تعلیم پر کہاں تک عمل درآمد ہے۔انہوںنے اس تعلیم کا عملی نمونہ کیادکھایا ہے کہ دوسروں کو بھی اس تعلیم کی طرف بلاتے ہیں۔پھراسی انجیل میں لکھا ہے کہ تو بدی کا مقابلہ نہ کر۔غرض انجیل کی تعلیم تفریط کی طرف جھکی ہوئی ہے اوربجز بعض خاص حالات کے ماتحت ہونے کے انسان اس پر عمل کرہی نہیں سکتا۔دوسری طر ف