ملفوظات (جلد 10) — Page 347
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۷ جلد دہم تھا تا کہ دنیا کو دکھا دے کہ اُمّی لوگوں نے قرآنی تعلیم کے نیچے آکر کیا کچھ کر دکھایا کہ بڑے بڑے علوم کے مدعیوں سے بھی ان کے مقابلہ میں کچھ بن نہ آیا۔ خدا خوب جانتا تھا کہ اس زمانہ میں قرآن کریم کی پاک تعلیم کا انجیل سے موازنہ کیسے کیسے جدید علوم پیدا ہوں گے اور خود مسلمانوں میں کیسے کیسے خیالات کے لوگ پیدا ہو جائیں گے؟ ان سب باتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دے رکھا ہے اور کوئی نئی تحقیقات یا علمی ترقی نہیں جو قرآن شریف کو مغلوب کر سکے اور کوئی صداقت نہیں کہ اب پیدا ہوگئی ہو اور وہ قرآن شریف میں پہلے ہی سے موجود نہ ہو۔ جو راہ قرآن شریف نے پیش کی ہے وہ نہ انجیل میں پائی جاتی ہے نہ توریت میں اس کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی اور کتاب اس کمال اور جامعیت کا دعوی کر سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے قرآن شریف کو عطا کی ہے۔ قرآن کے مقابل پر ان کا ذکر ہی کیا ہے! انجیل نے ایک ضعیف ناتواں انسان کو خدا بنا یا مگر اس کی طاقت کا اندازہ قوم یہود کے مقابلہ سے ہی ہو سکتا ہے۔ دوسری بات اور مایہ ناز انجیل کی اخلاقی تعلیم تھی مگر وہ ایسی بودی اور نامکمل ہے کہ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کی پابندی نہیں کر سکتا بلکہ خود پادری صاحبان کا عمل بھی اس تعلیم کے بالکل برخلاف ہے۔ مثلاً انجیل تعلیم دیتی ہے کہ اگر تجھے کوئی ایک طمانچہ مارے تو تو دوسری گال پھیر دے اور اگر کوئی تیرا کر تہ مانگے تو اس کو چادر بھی اتار دے ۔ اور اگر کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جانا چاہے تو دوکوس اس کے ساتھ چل ۔ اب ہم اول ان انجیل کی حمایت اور تعریف کرنے والے پادری صاحبوں سے ہی دریافت کرتے ہیں کہ ان کا اس تعلیم پر کہاں تک عمل درآمد ہے۔ انہوں نے اس تعلیم کا عملی نمونہ کیا دکھایا ہے کہ دوسروں کو بھی اس تعلیم کی طرف بلاتے ہیں۔ پھر اسی انجیل میں لکھا ہے کہ تو بدی کا مقابلہ نہ کر ۔ غرض انجیل کی تعلیم تفریط کی طرف جھکی ہوئی ہے اور بحر بعض خاص حالات کے ماتحت ہونے کے انسان اس پر عمل کر ہی نہیں سکتا۔ دوسری طرف