ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 336

جاتا تھا۔مگر اب آج اس عہد حکومت میں کیسا امن کیسی آزادی ہے کہ ہر ایک مسلمان بشرطیکہ اپنی نیت میں خرابی نہ رکھتا ہو۔تکمیل دین کے واسطے ہرکام کو آزادی سے ادا کر سکتاہے۔چاہے جس زور سے اذانیں کہو، نمازیں پڑھو، اعمال بجالائو، علوم کی تحصیل کرو یا کسی کا ردّ لکھو۔خواہ خود عیسائیوں کا ردّ لکھو کوئی ناراضگی نہیں۔ابھی چند روز کا ذکر ہے کہ جناب فنانشل کمشنر صاحب بہادر دورہ کرتے ہوئے قادیان میں تشریف لائے۔ملاقات کے وقت انہوں نے بیان کیا کہ کیسی آزادی ہے کہ ہر ایک شخص ایک خاص حد تک جو قانون کی حد سے نہ نکل جاوے۔آزادی سے خیالات کا اظہار کر سکتاہے۔کتابیں لکھ سکتا ہے۔تقریریں کر سکتا ہے اگر کوئی تعصب ہوتا تو عیسائیوں کے ردّ کرنے والوں پر تو کم از کم سختی کی جاتی۔غرض یہ اَمر اس گورنمنٹ کی انصاف پسندی اوربے تعصبی کا ایک عمدہ نمونہ اور دلیل ہے۔مگر انسان کا یہ فرض ہے کہ بات کو اس حد تک نہ پہنچا دے کہ قانونی گرفت کے اندر آجائے اور جرم کی حد تک پہنچا دے۔پس یاد رکھو کہ اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر اس کی نافرمانی کرتا ہے تو وہ خدا کی نافرمانی کرتا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص بندے کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر گذار نہیں بن سکتا۔یادر کھو کہ گورنمنٹ کی ناراضگی کی وجہ بغاوت ہوتی ہے ورنہ جائز طور سے دینی معاملات کی انجام دہی اور امن کی زندگی گذارنے سے گورنمنٹ ہرگز کسی پر عتاب نہیں کرتی۔ایسے صلح کاری، امن پسندی اور انصاف شعاری کے اصول رکھنے والی گورنمنٹ کا شکریہ نہ کرنا بھی گناہ ہے۔پس مسلمانوں پر عموماً اور ہماری جماعت پر خصوصاً واجب ہے کہ اپنی مہربان گورنمنٹ کا بھی شکر یہ کریں۔اگر یہ گورنمنٹ سر پر نہ ہو تو پھر دیکھ لو کہ کیا حال ہوتا ہے۔انسان کس طرح سے بے دریغ بھیڑ بکری کی طرح ذبح کئے جاتے ہیں؟ اس گورنمنٹ کی حکومت آئی تو ان پر کیا الزام۔یہ تو مشیتِ ایزدی بھی اسی طرح پر واقع ہوئی تھی۔مسلمان بادشاہوں نے اپنے فرائض کو چھوڑ دیا۔عیش و عشرت میں پڑ کر حکومت اور رعایا کے حقوق کی پروا نہ کی۔عورتوں کی طرح زیب و زینت میں مصروف ہو