ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 332

بنا دیا، سورج پیدا کیا، چاند بنایا، ستارے پیدا کئے، ہوا، پانی، اناج بنائے۔ہماری طرح طرح کی امراض کے واسطے شفا بخش دوائیں پیدا کیں۔غرض اسی طرح کے ہزاروں ہزار انعامات ایسے ہیں کہ بغیر ہمارے کسی عمل یا محنت و کو شش کے اس نے محض اپنے فضل سے پیدا کر دئیے ہیں۔اگر انسان ایک عمیق نظر سے دیکھے تو لاکھوں انعامات ایسے پائے گا اور اس کو کوئی وجہ انکار کی نہ ملے گی اور ماننا ہی پڑے گا کہ وہ انعامات اور سامانِ راحت جو ہمارے وجود سے بھی پہلے کے ہیں بھلا وہ ہمارے کس عمل کا نتیجہ ہیں؟ دیکھو! یہ زمین اور یہ آسمان اور ان میں کی تمام چیزیں اور خود ہماری بناوٹ اور وہ حالت کہ جب ہم مائوں کے پیٹ میں تھے اور اس وقت کے قویٰ یہ سب ہمارے کس عمل کا نتیجہ ہیں؟ میں ان لوگوں کا یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا جو تناسخ کے قائل ہیں مگر ہاں اتنا بیان کئے بغیر رہ بھی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر اتنے لاتعداد اور انعام اور فضل ہیں کہ ان کو کسی ترازو میں وزن نہیں کر سکتے۔بھلا کوئی بتا تو دے کہ یہ انعامات کہ چاند بنایا، سور ج بنایا، زمین بنائی اور ہماری تمام ضروریات ہماری پیدائش سے بھی پہلے مہیّا کر دیں۔یہ کُل انعامات کس عمل کے ساتھ وزن کریں گے؟ پس ضروری طور سے یہ ماننا پڑے گا کہ خدا رحمٰن ہے اور اس کے لاکھوں فضل ایسے بھی ہیں کہ جو محض اس کی رحمانیت کی وجہ سے ہمارے شامل حال ہیں اور اس کے وہ عطایا ہمارے کسی گذشتہ عمل کا نتیجہ نہیں ہیں اور کہ جو لوگ ان امور کو اپنے کسی گذشتہ عمل کا نتیجہ خیال کرتے ہیں وہ محض کوتاہ اندیشی اور جہالت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔خدا کا فضل اور رحمانیت ہماری روحانی جسمانی تکمیل کی غرض سے ہے اور کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ میرے اعمال کا نتیجہ ہیں۔اَلرَّحِیْم انسان کی سچی محنت اور کوشش کا بدلہ دیتا ہے۔ایک کسان سچی محنت اور کوشش کرتا ہے۔اس کے مقابل میں یہ عادت اللہ ہے کہ وہ اس کی محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا اور بابرگ و بار کرتا ہے۔شاذوناد ر حکم عدم کا رکھتا ہے۔۱ ۱ بدر سے۔’’کسی پوشیدہ حکمت یا کاشتکار کی بد عملی کی وجہ سے فصل برباد ہوجائے تو یہ علیحدہ بات ہے۔یہ شاذ و نادر کالمعدوم کا حکم رکھتی ہے۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۵؍جون۱۹۰۸ء صفحہ ۳)