ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 331

اشاعتِ دین کے لئے سامان مہیا کردیئے اورحقیقتاً سچی بات یہی ہے کہ اگرخدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شمار کرنا چاہیں توہرگز ممکن نہیں کہ اس خدا کی مہربانیوں اوراحسانوں کا شمار کرسکیں۔۱ اس کے انعامات ہر دو روحانی اور جسمانی رنگ میں محیط ہیں اورجیسا کہ وہ سورہ فاتحہ میں جو کہ سب سے پہلی سورہ ہے اور تمام قرآن شریف اسی کی شرح اورتفسیر ہے اوروہ پنجوقت نمازوں میں باربار پڑھی جاتی ہے اس کا نام ہے ربُّ العالمین یعنی ہر حالت میں اورہر جگہ پر اسی کی ربوبیت سے انسان زندگی اورترقی پاتا ہے اوراگر نظرِ عمیق سے دیکھا جاوے تو حقیقت میں انسانی زندگی کا بقا اورآسودگی اورآرام، راحت و چین اسی صفتِ الٰہی سے وابستہ ہے۔اگراللہ تعالیٰ اپنی صفت رحمانیت کا استعمال نہ کرے اوردنیا سے اپنی رحمانیت کا سایہ اٹھالے تودنیا تباہ ہوجاوے۔پھر اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا نام رحمٰن اور رحیم رکھا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمٰن اور رحیم میں فرق بیان کردوں۔رحمٰن اور رحیم میں فرق اَلرَّحْـمٰن سویاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کانام جو بغیر کسی عوض یا انسانی عمل محنت اور کوشش کے انسان کے شاملِ حال ہوتی ہے رحمانیت ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے نظامِ دنیا(بقیہ حاشیہ) فرمایا۔کھانے کا وقت گذرا جاتا ہے چاہو تو میں اپنی تقریر بند کردوں مگر سب نے یہی کہا کہ یہ کھانا تو ہم روز کھاتے ہیں۔ہمیں روحانی غذا کی ضرور ت ہے۔چنانچہ تقریرایک بجے ختم ہوئی۔اللہ تعالیٰ خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر چیف کورٹ کی مساعی جمیلہ کو مشکور کریں جنہوں نے اپنے دوستوں کے لیے حضور سے نیاز حاصل کرنے اوران کے کلمات طیبات سننے کا یہ موقع دعوت کے رنگ میں نکال دیا۔‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۲۵مورخہ ۲۵؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۳) ۱ بدر سے۔’’وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا (ابراھیم :۳۵)‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۲۵مورخہ ۲۵؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۳)