ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 320

کامل اختیارات رکھتا ہے۔يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ ہمارا ایمان ہے۔وہ جو تشی کی طرح نہیں۔وہ ایک حکم صبح دیتا اور رات کو اس کے بدلنے کے کامل اختیارات رکھتا ہے۔مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ (البقرۃ:۱۰۷ ) والی آیت اس پر گواہ ہے۔آخر صدقہ خیرات بھی کوئی چیز ہے۔تمام انبیاء کرام کا اجماعی مسئلہ ہے کہ صدقہ واستغفار سے ردِّ بَلا ہوتا ہے۔بَلا کیا چیز ہے۔یعنی وہ تکلیف دہ اَمر جو خدا کے ارادے میں مقدر ہوچکا ہے۔اب اس بَلا کی اطلا ع جب کوئی نبی دے تو وہ پیشگوئی بن جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے وہ تضرّع کرنے والوں پر اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اس لئے ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ وعید کی پیشگوئیاں اٹل ہیں بلکہ وہ ٹل جاتی ہیں۔دیکھو! جہاں میں نے زلزلہ کا ذکر کیا ہے وہاں ساتھ ہی توبہ استغفار تضرّع و صدقہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔جس سے یہ مراد ہے کہ یہ عظیم بَلا ٹل سکتی ہے۔افسوس! لوگ ہماری عداوت میں ایسے بڑھ گئے ہیں کہ وہ اسلام کے مسائل کو بھی بھول گئے ہیں۔وہ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۠(الانفال:۳۴) پڑھتے ہیںاور پھر ہم پر اعتراض کرتے ہیں۔اللہ ہدایت کرے۔۱ ۱۵؍مئی ۱۹۰۸ء (۱۰ بجے دن ) دو معزز بیرسٹرایٹ لاء ملاقات کو آئے۔ان سے مفصلہ ذیل مکالمہ ہوا۔انشاء اللہ کہنا ضروری ہے آپ نے آئندہ کے متعلق ایک بات کہی کہ ایسا کیا جائے گا۔مگر ساتھ ہی انشاء اللہ العزیز فرمایا اوربتلایا کہ انشاء اللہ کہنا نہایت ضروری ہے کیونکہ انسان کے تما م معاملات اس کے اپنے اختیار میں نہیں۔وہ طرح طرح کی مصائب اورمکارِہ وموانع میں گھرا ہوا ہے۔ممکن ہے کہ جو کچھ ارادہ اس نے کیا ہے وہ پورا نہ ہو۔پس انشاء اللہ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے جو تما م طاقتوں کا سرچشمہ ہے مددطلب کی جاتی ہے۔آجکل کے ناعاقبت اندیش ونادان لوگ اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔۱ بدر جلد ۷ نمبر ۱۹،۲۰ مورخہ ۲۴؍مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۳،۴