ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 311

انسان اور ذرّہ ذرّہ کا خالق حقیقی ہے اور وہ ان کے خواص کا بھی خالق اور داتا ہے۔وہ اپنی کامل حکمت اور کامل علم سے ایک بات تجویز کرتا ہے کہ یہ تمہارے حق میں مضر ہے اس کا ارتکاب ہر گز ہرگز تمہارے حق میں مفید نہیں بلکہ سراسر مضر ہے تو انسان، ہاں سلیم الفطرت انسان کا یہ کام نہیں کہ اس کی خلاف ورزی کرے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر جب ایک مریض کے واسطے کوئی پرہیز تجویز کرتا ہے تو بیمار کس طرح بے چون و چر ااس کی تعمیل کرتا ہے کیوں ایسا کرتا ہے؟ اس لئے کہ وہ ڈاکٹر کو اپنے سے زیادہ وسیع معلومات رکھنے والا یقین کرتا ہے۔غرض اسی طرح بعض امور ایسے بھی ہیں کہ وہ انسان کے جسم یاروح کے واسطے مضر ہوتے ہیں خواہ انسان سمجھے یا نہ سمجھے بعض امور ایسے ہیں کہ اگر خدا ان کے واسطے نہ بھی حکم دیتا تو بھی وہ مضر ہی تھے طب جسمانی میں بھی بعض گناہ رکھے گئے ہیں۔قواعد طب کا علم نہ ہونا عذر نہیں ہو سکتا اس شخص کے واسطے جو خلاف ورزی قواعد طب کرتا ہے۔اگر کسی کو یقین نہ ہو تو ڈاکٹروں اور اطباء سے پوچھ لو۔یادرکھنے کے لائق نکتہ یہی ہے کہ گناہ کی جڑ وہی امور ہیں جن کے کرنے سے سچی پاکیزگی اور تقویٰ طہارت سے انسان دور جا پڑ ے۔خدا کی سچی محبت اور اس کا وصال ہی سچی راحت اور حقیقی آرام ہے۔پس خدا سے دوری اور الگ ہونا بھی گناہ اور باعث دکھ اور رنج ومصیبت ہے جن باتوں کو خدا اپنی تقدیس کی وجہ سے پسند نہیں کرتا وہی گناہ ہے۔اگر بعض امور میں لوگوں کا اختلاف ہے تو دوسری طرف اکثر حصہ گناہ کا دنیا میں مشترکہ طور سے مسلّم ہے۔جھوٹ، چوری، زنا اور ظلم وغیرہ ایسے امور ہیں کہ تمام مذہب و ملّت کے لوگ مشترکہ طور سے ان کوگناہ ہی یقین کرتے ہیں۔مگر یادرکھو کہ گناہ کی جڑ وہی امور ہیں جو خدا سے بعید کرتے ہیں۔خدا کی تقدیس کے خلاف ہیں۔خدا کے ذاتی تقاضے کے برخلاف اور فطرت انسانی کے واسطے مضر ہیں وہی گناہ ہیں۔ہر انسان گناہ کو محسوس کرتا ہے۔دیکھو! جب کوئی کسی بے گناہ کو طمانچہ مارتا ہے اور جانتا ہے کہ میرا حق نہیں کہ ایسا کروں۔وہ آخر ایک وقت جب ٹھنڈے دل سے بیٹھے گا اپنے دل میں خود نادم او ر شرمندہ ہو گا اور محسوس کرے گا کہ میں نے بُرا کیا۔ایک انسان جو کسی بھوکے کو کھانا دیتا ہے۔پیاسے کو پانی پلاتا ہے۔ننگے کو کپڑا پہناتا ہے