ملفوظات (جلد 10) — Page 299
۹؍مئی ۱۹۰۸ء ( بمقام لاہور۔قبل نماز ظہر ) احمدی ڈاکٹروں اوراطبّا ء کے لیے خاص نصیحت طاعون اورہیضہ وغیرہ وبائوں کا ذکر تھا۔فرمایا۔بدقسمت ہے وہ انسان کہ ان بلائوں سے بچنے کے واسطے سائنس، طبعی یا ڈاکٹران وغیرہ کی طرف توجہ کرکے سامان تلاش کرتا ہے اور خوش قسمت ہے وہ جو خدا کی پناہ لیتا ہے اورکون ہے جو بجز خداکے ان آفات سے پناہ دے سکتا ہو؟ اصل میں یہ لوگ جو فلسفی طبع یا سائنس کے دلدادہ ہیں ایسی مشکلات کے وقت ایک قسم کی تسلّی اور اطمینان پانے کے واسطے بعض دلائل تلاش کرلیتے ہیں اوراس طر ح سے ان وبائوں کے اصل بواعث اوراغراض سے محروم رہ جاتے ہیں اورخدا سے پھر بھی غافل ہی رہتے ہیں۔ہماری جماعت کے ڈاکٹروں سے میں چاہتا ہوں کہ ایسے معاملات میں اپنے ہی علوم کوکافی نہ سمجھیں بلکہ خدا کا خانہ بھی خالی رکھیں اورقطعی فیصلے اور یقینی رائے کا اظہار نہ کردیا کریں کیونکہ اکثر ایسا تجربہ میں آیا ہے کہ بعض ایسے مریض جن کے حق میں ڈاکٹروں نے متفقہ طورسے قطعی اوریقینی حکم موت کا لگادیا ہوتا ہے ان کے واسطے خداکچھ ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ وہ بچ جاتے ہیں اوربعض ایسے لوگوں کی نسبت جوکہ اچھے بھلے اوربظاہر ڈاکٹروں کے نزدیک ان کی موت کے کوئی آثار نہیں نظر آتے خداقبل ازوقت ان کی موت کی نسبت کسی مومن کو اطلاع دیتا ہے۔اب اگر چہ ڈاکٹروں کے نزدیک اس کا خاتمہ نہیں۔مگر خدا کے نزدیک اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آجاتا ہے۔علم طب یونانیوں سے مسلمانوں کے ہاتھ آیا مگر مسلمان چونکہ مؤحد اور خدا پرست قوم تھی۔انہوں نے اسی واسطے اپنے نسخوں پر ھوالشّافی لکھنا شروع کردیا۔ہم نے اطباء کے حالات پڑھے ہیں۔علاج الامراض میں مشکل اَمر تشخیص کو لکھا ہے۔پس جو شخص تشخیص مرض میں ہی غلطی کرے گا وہ علاج میں بھی غلطی کرے گا کیونکہ بعض امراض ایسے اَدَق اورباریک ہوتے ہیں کہ انسان ان کو سمجھ