ملفوظات (جلد 10) — Page 22
یہ اس کی عبارت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چہ اس وقت تو اکیلا ہے مگر وہ زمانہ تجھ پر آنے والا ہے کہ تو تن تنہا نہیں رہے گا۔فوج در فوج لوگ دور دراز ملکوں سے تیرے پاس آئیں گے اور آپ جانتے ہیں کہ جب اس قدر مخلوق آئے گی تو آخر اُن کے کھانے کے واسطے بھی انتظام چاہیے اس لئے فرمایا یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ یعنی وہ لو گ تحفے تحائف اور ہزاروں روپے تیر ے لئے لے کر آویں گے۔پھر خد ا فرماتا ہے۔وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰہِ وَلَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ(ص۲۴۲) یعنی کثرت سے مخلوق تیرے پاس آئے گی۔اس کثرت کو دیکھ کر گھبرانہ جانا اور ان کے ساتھ کج خلقی سے پیش نہ آنا۔پیشگوئی کے وقت قادیان کی حالت اس وقت جب کہ یہ الہام براہین احمدیہ میں شائع کئے گئے تھے قادیان ایک غیر مشہور قصبہ تھا اور ایک جنگل کی طرح پڑا ہوا تھا۔کوئی اسے جانتا بھی نہ تھا اور اتنے لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں کون کہہ سکتا ہے کہ اس وقت بھی اس کی یہی شہرت تھی بلکہ تم میں سے تقریباً سب کے سب ہی اس گاؤں سے نا واقف تھے۔اب بتلاؤ کہ خدا کے ارادہ کے بغیر آج سے پچیس۲۵ چھبیس۲۶ برس پیشتر اپنی تنہائی اور گمنامی کے زمانے میں کوئی کس طرح دعویٰ کر سکتا ہے کہ مجھ پر ایک زمانہ آنے ولا ہے جب کہ ہزارہا لوگ میرے پاس آئیں گے اور طرح طرح کے تحفے اور تحائف میرے لیے لاویں گے اور میں دنیا بھر میں عزت کے ساتھ مشہور کیا جاؤں گا؟ عظیم الشان معجزہ دیکھو! جتنے انبیاء آج سے پہلے گذر چکے ہیں ان کے بہت سے معجزات تو نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ بعض کے پاس تو صرف ایک ہی معجزہ ہوتا تھا اور جس معجزہ کا میں نے بیان کیا ہے یہ ایک ایسا عظیم الشان معجزہ ہے جو ہر ایک پہلو سے ثابت ہے اوراگر کوئی نرا ہٹ دھرم اور ضدی نہ ہو گیا ہوتو اُسے میر ا دعویٰ بہر صورت ماننا پڑتا ہے۔میری اس تنہائی اور گمنامی کے زمانے کے یہاں کے ہندو بھی گواہ ہیں اور وہ بتا سکتے ہیں کہ میں اس وقت اکیلا تھا اور ارد گر د کے لوگ بھی مجھے نہ جانتے تھے۔ہاں اگر کوئی ہندو اس سے انکار کرے تو اس کو چاہیے