ملفوظات (جلد 10) — Page 287
اور چیز کو ایسا عزیز رکھے کہ ہر وقت انہیں کافکر رہے تو وہ بھی ایک بُت پرست ہے۔بُت پرستی کے یہی تو معنے نہیں کہ ہندوئوں کی طرح بُت لے کر بیٹھ جائے اور اس کے آگے سجدہ کرے حد سے زیادہ پیار و محبت بھی عبادت ہی ہوتی ہے۔ہمیںتو بچپن سے اس بات کی سمجھ آگئی تھی اور اب بھی ہمارا لڑکا مبارک احمد فوت ہو گیا ہے اور اگر ایک مبارک کی جگہ لاکھ مبارک بھی آجائے اور خدا تعالیٰ فرمائےکہ یا ان کی طرف جائو یا ہماری طرف تو قسم بخدا ایک منٹ کے لئے یا ایک سیکنڈ کے لیے بلکہ اس کے ہزار ویں حصہ کے لیے کبھی دل میں یہ خیال نہ پیدا ہو کہ اس کی طرف نہ جائیں اور مبارک احمد کی طرف چلے جاویں۔اولاد چیز کیاہے؟ بچپن سے ماں اس پر جان فدا کرتی ہے مگر بڑے ہو کر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لڑکے اپنی ماں کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس سے گستاخی سے پیش آتے ہیں۔پھر اگر فرمانبردار بھی ہو ں تو دکھ اور تکلیف کے وقت وہ اس کو ہٹا نہیں سکتے۔ذراساپیٹ میں درد ہو تو تمام عاجز آجاتے ہیں۔نہ بیٹاکام آسکتاہے نہ باپ نہ ماں نہ کوئی اور عزیز۔اگرکام آتا ہے تو صر ف خدا۔پس ان کی اس قدر محبت اور پیار سے فائد ہ کیا جس سے شرک لازم آئے؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ (التغابن:۱۶) اولاد اور مال انسان کے لئے فتنہ ہوتے ہیں۔دیکھو! اگر خدا کسی کو کہے کہ تیری کل اولاد جو مَر چکی ہے زندہ کر دیتا ہوں مگر پھر میرا تجھ سے کچھ تعلق نہ ہو گا تو کیا اگر وہ عقلمند ہے اپنی اولاد کی طرف جانے کاخیال بھی کرے گا؟ پس انسان کی نیک بختی یہی ہے کہ خدا کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھے۔جو شخص اپنی اولاد کی وفات پر بُرامناتا ہے وہ بخیل بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ اس امانت کے دینے میں جو خدا نے اس کے سپر د کی تھی بخل کرتا ہے اور بخیل کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ اگر وہ جنگل کے دریائوں کے برابر بھی عبادت کرے تو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔پس ایسا شخص جوخدا سے زیادہ کسی چیز کی محبت کرتا ہے اس کی عبادت نماز روزہ بھی کسی کام کے نہیں۔