ملفوظات (جلد 10) — Page 280
عقلمند انسان کو دیکھنا یہ چاہیے کہ اتنے نامی اور مشہور اوتار، نبی، رسول جو لاکھوں لاکھ دنیا میں آئے۔انہوں نے دنیا میں کیا راہ قائم کی؟ اچھا! آپ ہی بتائیں کہ مہذب فرقہ کے لوگ چوری، جھوٹ، زنا وغیرہ امور کو کیسا خیال کرتے ہیں؟ پس اب یقین جانیں کہ خود یہ اختلاف ہی ظاہر کرتا ہے کہ واقعی وہ امور جن میں اختلاف کیا گیا ہے گناہ ہیں۔علاج مرض کا کیا جانا چاہیے ہم کہتے ہیں کہ گناہ تو ایسی چیز ہے کہ خدا کی ہستی کو نہ ماننے والا بھی طبعاً اس سے نفرت کرتا ہے۔پس ایک صحیح الفطرت انسان خواہ اس تک آسمانی تعلیم نہ بھی پہنچی ہو فطرتاً گناہ کو گناہ یقین کرتا اور قابل نفرت جانتا ہے۔دوم یہ کہ بعض امور جو ممنوعات میں سے ہوتے ہیں وہ قانون اور باریک حکمت کے خلاف ہوتے ہیں اور خود انسان کے اپنے حق میں یا بنی نوع انسان کے واسطے بھی ان کا ارتکاب مضر ہوتا ہے۔مثلا ً زنا سے زانی کو آتشک، سوزاک وغیرہ خطرناک امراض لاحق ہو کر وبالِ جان ہو جاتی ہیں۔پس یاد رکھنا چاہیے کہ نہ خدا نے گناہ سے اس واسطے روکا ہے کہ اس میں اس کا کوئی نقصان متصوّر ہے اور نہ نیکی کی اس واسطے تاکید فرمائی ہے کہ اس میں اس کا کوئی فائدہ ہے بلکہ یہ اس کا رحم ہے کہ اس نے ایسے امور جو خود انسان کے اپنے ہی واسطے مضر تھے یا بنی نوع انسان کے واسطے مضر تھے ان سے روک دیا اور یہ اس کا کمال رحم ہے وہ چونکہ قدوس اور پاک ہے۔اس کی قدوسیت اور پاکی کا تقاضا ہے کہ دنیا میں نیکی پھیلے۔ورنہ انسان اگر بے قید ہو کر بدی اور گناہ کرے گا اور ممنوعاتِ شرعیہ کا ارتکاب کرے گا تو اس کا وبال بھی خود ہی برداشت کرے گا۔خدا کا اس میں کچھ نقصان نہیں۔۱ برمکان خواجہ کمال الدین صاحب وفاتِ مسیح علیہ السلام کے دلائل خلیفہ رجب الدین صاحب نے سوال کیا کہ حضور بعض لوگ دریافت کرتے ہیں کہ وفات مسیحؑ کے کیا دلائل ہیں؟ اس سوال کے جواب میں حضرت اقدسؑ نے ذیل کی تقریر فرمائی۔فرمایا۔حضرت عیسٰیؑ کی وفات قرآن شریف میں بہت آئی ہے۔دو قسم کی آیات ہیں جن سے ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۶ مورخہ ۶؍اگست ۱۹۰۸ءصفحہ ۲تا۴