ملفوظات (جلد 10) — Page 276
حق العباد کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی پر ظلم نہ کرنا اور کسی کے حقوق میں دست اندازی نہ کرنا جہاں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔جھوٹی گواہی نہ دینا وغیرہ۔اب یہ دونوں اَمر ایسے مشکل ہیں کہ تمام گناہ، جرائم، معاصی اور دوسری طرف تمام نیکیوں کے اصول اسی میں آگئے ہیں۔کہنے کو توہر ایک کہہ لیتا ہے کہ میں اپنی قوت سے گناہ سے بچ سکتا ہوں مگر انسان فطرت سے الگ ہرگز نہیں ہوسکتا۔فطرتِ انسانی کسی کپڑے کا دامن توہے نہیں کہ پلید ہوا تو کاٹ کر الگ کردیا جاسکے۔فطرت روح کا پیدائشی جزو ہے۔پس جبکہ انسانی فطرت میں ہی یہی رکھا گیا ہے کہ انسان انہی امور سے خائف ہوتا اورپرہیز کرتا ہے جن کو وہ اپنی ہلاکت کا باعث اور مضر یقین کرتا ہے۔کسی نے کوئی نہ دیکھا ہوگا کہ اسڑکنیا کو باوجود اسٹرکنیا یقین کرنے کے دانستہ استعمال کرے یا سانپ کوسانپ یقین کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑ لے یا ایک طاعون زدہ گائوں میں جہاں موتاموتی کابازار گرم ہے خواہ مخواہ جاگھسے۔اس اجتناب اور پرہیز کی وجہ کیا؟ یہی کہ ان باتوں کو وہ مہلک یقین کرتا ہے۔گناہ سے بچنے کا راز پس انسان معاصی اورجرائم کی مرض سے تب ہی نجات پاسکتا ہے کہ اسے چور اور سانپ وغیرہ سے بڑھ کر ان کے مضر اور نقصان دہ ہونے کا یقین ہو اور خدا کا جلا ل، اس کی عظمت اورجبروت ہر وقت اس کے مدّنظر ہو۔انسان اپنی حرص و خواہش اوردلی آرزوئوں کو بھی ترک کرسکتا ہے۔مثلاً ایک ذیابیطس کا مریض جس کو ڈاکٹر کہہ دے کہ شیرینی کا استعمال بالکل ترک کردو۔پھر اپنی جان کی خاطر میٹھے کو چُھوتا بھی نہیں۔پس یہی حال روحانی حرص وہوا اور خواہشاتِ نفسانی کا ہے۔اگر خدا کی عظمت اور اس کا جلال سچے طور سے اس کے دل میں گھر کرچکا ہوتو پھر اس کی نافرمانی آگ کے کھانے اور موت سے بھی بدتر محسوس کرے گا۔انسان کو جس قدر خدا کے اقتدار اورسطوت کا علم ہوگا اور جس قدر یقین ہوگا کہ اس کی نافرمانی کرنے کی سخت سزا ہے اسی قدر گناہ اورنافرمانی اور حکم عدولی سے اجتناب کرے گا۔دیکھو! بعض لوگ