ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 274

اس راہ سے انسان کو حقیقی معرفت اوریقین کامل جو انسان کی عملی حالت پر اثر ڈال سکے ہر گز ممکن نہیں۔زیادہ سے زیادہ بس یہی ہوتا ہے کہ خداہونا چاہیے۔مگر ہے اورہونا چاہیے میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔معرفتِ کاملہ اس بیان سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ معرفت بھی وہی فائدہ بخش ہوسکتی ہے جس سے انسان میں ایک تبدیلی بھی پیدا ہو۔ایک شخص جوبینائی اورقوتِ رئویت کا دعویٰ کرے مگر اس کے دعوے کے ساتھ کوئی عملی ثبوت نہ ہو اور وہ کھڑا ہوتے ہی دیواروں سے ٹکریں کھائے کیا اس کا دعویٰ قابل پذیرائی ہوسکتا ہے؟ ہرگزنہیں۔کارآمد صفت کمال ہی ہے۔نیم ملاں خطرۂ ایمان اورنیم حکیم خطرۂ جان مشہور مقولے ہیں۔پس کامل معرفت کی تلاش کرنا شرط ہے اوروہ اسی راہ سے میسر آسکتی ہے جو راہ انبیاء دنیا میں لائے۔ایک دہریہ تو وہ ہے جو صانع کے وجود کا منکر ہے اوریہ گروہ قدیم سے ہے مگر میں کہتا ہوں فرض کرلو کہ دنیا میں ایسا ایک بھی متنفّس نہیں تو بھی ہر وہ جس کوکامل معرفت نہیں وہ بھی دہریہ ہے۔جب تک کامل معرفت نہ ہو اس وقت تک کچھ نہیں۔جس طرح ایک دانہ بھوک کو اورایک قطرہ پیاس کو نہیں مٹاسکتے اسی طرح خشک ایمان جس کے ساتھ کمال معرفت اپنے تمام لوازم کے ساتھ نہیں نجات نہیں دلاسکتا۔جس طرح وہ انسان زندہ نہیں رہ سکتا جس کو بھوک کے وقت کھانا اور پیاس کے وقت پانی دیکھنا تک بھی نصیب نہیں ہوا۔اسی طرح وہ بھی ہلاک ہوجائے گا جس نے بھوک کے وقت ایک دانہ دیکھ لیا یا کھالیا اور ایک قطرہ شدید پیاس کے وقت دیکھ لیا یا پی بھی لیا ہو۔پس بعینہٖ اسی طرح سے معرفت کامل ہی موجب نجات ہوسکتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ان محسوسات میں بھی کامل علم اور معرفت ہی کا اثر ہوتا ہے۔ایک انسان کے پاس خواہ ایک شیر یا بھیڑیا آجاوے مگر جب تک وہ شیر کو شیر اوربھیڑیئے کو بھیڑیا بمع ان کے تمام لوازم اورخواص کے یقین نہیں کرلیتا ان سے کوئی خوف نہیں کرتا۔ایک زہریلے سانپ کو جوانسان ایک چوہا یقین کرتا ہوگا وہ اس سے ہرگز گریز اورپرہیز نہ کرے گا مگر اس علم کے ساتھ ہی کہ یہ ایک زہر یلا