ملفوظات (جلد 10) — Page 273
اپنی گفتار جس کو بالفاظ دیگر الہام، وحی، مکالمات کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے، دیدار کے قائم مقام رکھ دی ہے۔کم ہیں جن کودیدار ہوتا ہو۔اکثر گفتار ہی کے ذریعہ تسلّی پاتے اورطمانیت حاصل کرتے ہیں۔کلام اللہ کا امتیاز اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھلا یہ کیوں کر معلوم ہوکہ وہ گفتار جو انسان سنتا ہے واقعی خدا کا کلام ہے کسی اور کا نہیں؟ سواس کے لئے یادرکھنا چاہیے کہ خدا کے کلام کے ساتھ خدائی طاقت، جبروت اورعظمت ہوتی ہے جس طرح تم لوگ ایک معمولی انسان اور بادشاہ کے کلام میں فرق کرسکتے ہو اسی طرح اس احکم الحاکمین کے کلام میں بھی شوکت وسطوتِ سلطانی ہوتی ہے جس سے شناخت ہوسکتی ہے کہ واقعی یہ کلام بجز خدائے عزّوجل کے اور کسی کا نہیں۔ملہمین کی علامات دوسرابڑابھاری نشان اس شناخت اور تمیز کا یہ ہوتا ہے کہ جس انسان سے خدا کلام کرتا ہے وہ خالی نہیں ہوتا بلکہ اس میں بھی خدائی شان جلوہ گر ہوتی ہے اوروہ بھی ایک گونہ خدائی صفات کا مظہر اورجلو ہ گاہ ہوتا ہے۔اس میں وہ لوازم پائے جاتے ہیں۔اس میںایک خاص امتیاز ہوتا ہے۔علومِ غیبی جو سفلی خیالات کے انسانوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتے وہ ان کو عطا کئے جاتے ہیں۔اس کی دعائیں قبول کرکے اس کو اطلاع دی جاتی ہے اور اس کی اس کے کاروبار میں خاص نصرت اور مدد کی جاتی ہے اورجس طرح خدا سب پر غالب ہے اور اس کو کوئی جیت نہیں سکتا۔اسی طرح انجامکار وہ بھی غالب اور ہر طرح سے مظفر ومنصور اورکامیاب وبامراد ہوجاتے ہیں۔غرض یہ نشان ہوتے ہیں جن کے ذریعہ سے عقلمند انسان کو ضرورتاً ماننا ہی پڑتا ہے کہ واقعی یہ انسان مقرّب بارگاہ ہے اور پھر یہ بھی ماننا ہی پڑتا ہے کہ خدابھی ضرور ہے۔ہمیں ایسے لوگوں سے بھی گفتگو اورملاقات کا اتفاق ہوا ہے جو مصنوعات سے صانع کو پہچاننے اور شناخت کرنے کی راہ اختیار کرتے ہیں اور اس طریق کو ہم نے آزمایا بھی ہے۔مگر یادرکھو کہ یہ راہ ٹھیک نہیں ادھوری ہے