ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 272

ہے۔تحریری بھی اس کا م کو پورا کر دیا ہے۔دنیا میں کوئی کم ہی ہو گا جو اب بھی یہ کہہ دے کہ اس کو ہماری تبلیغ نہیں پہنچی یا ہمارا دعویٰ اس تک نہیں پہنچا۔۱ ۳؍مئی ۱۹۰۸ء (بروز اتوار۔بمقام لاہور برمکان ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب ) خدا تعالیٰ کو شناخت کرنے کا طریق ایک دہریہ سے ملاقات کے دوران فرمایا۔طبائع میں اختلاف ہوتا ہے۔بعض طبائع میں ایسی استعداد ہوتی ہے کہ وہ حق کے قبول کرنے میں جلدی کرتی ہیں اور بعض ایسی بھی ہوتی ہیں کہ حق ان کی سمجھ میں آ تو جاتا ہے مگر دیر بعد۔اور بعض ایسی بھی ہوتی ہیں کہ ان میں قبولِ حق کی استعداد دبتے دبتے ایک وقت بالکل زائل ہی ہوجاتی ہے۔خدا جس کا وجود مخفی درمخفی اور نہاں درنہاں ہے۔ہم نے اس کو ایسا نہیں مانا کہ وہ ایک ہیولیٰ ہے۔ایسا ایک انسان جس کو سچا شوق، حقیقی جوش اوردلی تڑپ ہے کہ وہ خدا کو پہچانے اس کے لئے تمام گذشتہ قصص اور واقعات پر نظر ڈال کر غور کرنا از بس مفید ہوسکتا ہے۔تاریخ ایسے انسان کے واسطے رہبری کرسکتی ہے۔تاریخ اور تمام واقعاتِ سلف بجز اس کے اور کوئی راہ نہیں بتاتے کہ خدا کو خداکے عجائبات قدرت اورتصرّفات سے جوکہ وہ بذریعہ اپنے الہامات، وحی اور مکالمات دنیا پر ظاہرکرتا ہے پہچان سکتے ہیں۔اس راہ سے بڑھ کر اورکوئی یقینی راہ خدا کی شناخت کی ہر گز نہیں ہے۔جن لوگوں کو وہ خاص کرلیتا ہے اورحصہ معرفت ان کو عطاکرتا ہے ان پر وہ مکالمہ مخاطبہ کا فیضان جاری کرتا ہے۔عشّاق کی تسلّی اور تسکین کے لئے دیدار یا گفتار دوہی چیزیں ہیں۔جہاں دیدار نہیں ہوسکتا وہاں گفتاردیدار کی جابجا اورقائم مقام ہوجاتی ہے۔ایک مادر زاد نا بینا گفتارہی کے ذریعے شناسائی کرسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ چونکہ غیر محدود ہے اوراس کی ذات ایسی نہیں کہ اس کی رئویت اوردیدار جسمانی چیزوں کی طرح ہوسکے۔اس واسطے اس نے