ملفوظات (جلد 10) — Page 271
یہ فرمایا۔؎ چو دور خسروی آغاز کردند مسلماں را مسلماں باز کردند یہ خدا کا کلام ہے۔آجکل اگر نظر عمیق سے اور غور سے دیکھا جاوے تو زبانی ایمان ہی کثرت سے نظر آوے گا۔پس خدا کا یہی منشا ہے کہ لفظی اور زبانی مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنایا جاوے۔یہودی کیا توریت پر ایمان نہیں لاتے تھے قربانیاں نہ کرتے تھے۔مگر خدا نے ان پر لعنت بھیجی اور کہا کہ تم مومن نہیں ہو بلکہ بعض نمازیوں کی نماز پر بھی لعنت بھیجی ہے جہاں فرمایا ہے وَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۠ الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ (الماعون:۵،۶) یعنی لعنت ہے ایسے نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔صلوٰۃ اصل میں آگ میں پڑنے اور محبت الٰہی اور خوفِ الٰہی کی آگ میں پڑ کر اپنے آپ سے جل جانے اور ماسوی اللہ کو جلا دینے کانام ہے اور اس حالت کانام ہے کہ صرف خدا ہی خدا اس کی نظر میں رہ جاوے اور انسان اس حالت تک ترقی کر جاوے کہ خدا کے بلانے سے بولے اور خدا کے چلانے سے چلے۔اس کی کل حرکات اور سکنات، اس کا فعل اور ترکِ فعل سب اللہ ہی کی مرضی کے مطابق ہو جاوے خودی دور ہو جاوے۔غرض یہ باتیں ہیں اگر خدا کسی کو توفیق دے تو۔مگر جب تک خدا کسی کے دل کے دروازے نہ کھولے کوئی کچھ کر نہیں سکتا۔دلوں کے دروازے کھولنا خدا ہی کاکام ہے اِذَا اَرَادَ اللہُ بِعَبْدٍ خَیْـرًا اَقَامَ وَاعِظًا فِیْ قَلْبِہٖ۔جب انسان کے اچھے دن آتے ہیں اور خدا کو انسان کی درستی اور بہتری منظور ہو تی ہے تو خدا انسان کے دل میں ہی ایک واعظ کھڑا کر دیتا ہے۔اور جب تک خود انسان کے اندر ہی واعظ پیدا نہ ہو تب تک بیرونی وعظوں کا اس پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔مگر وہ کام خدا کا ہے۔ہمارا کام نہیں ہے ہمارا کام صرف بات کا پہنچادینا ہے مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ (المآئدۃ:۱۰۰) تصرّف خدا کا کام ہے۔ہم اپنی طرف سے بات کا پہنچا دینا چاہتے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ہم پوچھے جاویں کہ کیوں اچھی طرح سے نہیں بتایا۔اسی واسطے ہم نے زبانی بھی لوگوں کو سنایا