ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 257

میں ہیں۔معقولی رنگ میں اور منقولی طور سے تو اب ہم اپنے کام کو ختم کر چکے ہیں۔کوئی پہلو ایسا نہیں رہ گیا جس کو ہم نے پورا نہ کیا ہو۔البتہ اب تو ہماری طرف سے دعائیں باقی ہیں۔خدا نے بھی کوئی اَمر باقی اٹھا نہیں رکھا۔معجزات اس کثرت اور ہیبت سے دکھا ئے ہیں کہ دوست دشمن ان کی عظمت اور شوکت کو مان گئے ہیں۔اب اگر کوئی ہدایت نہ پاوے تو یہ ہمارے اختیار کی بات نہیں ہے۔اِنَّکَ لَا تَـھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ(القصص : ۵۷) وفاتِ مسیح کا نسخہ خدا کے سلسلے کو ہتک اور خفت کی نظر سے نہ دیکھنا چاہیے۔اس نے بہت بڑا ارادہ کیا ہے۔اسلام کی خیر اسی میں ہے۔ایک دفعہ ہم دہلی میں گئے تھے۔ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا ہے کہ آنحضرتؐکو مدفون اور حضرت عیسٰیؑ کو زندہ آسمان پر بٹھایا۔یہ نسخہ تمہارے لئے مفید ہو یا مضر؟ اس سوال کا جواب تم خود ہی سوچ لو۔ایک لاکھ کے قریب لوگ اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں۔ہر قوم اور ہر فرقے میں سے سید، مغل، پٹھان، قریشی وغیرہ۔یہ تو حضرت عیسٰیؑ کو بار بار زندہ کہنے کا نتیجہ ہے۔مگراب ایک دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں وہ استعمال کرکے دیکھو اوروہ یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کو ( جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے اور رسول کریمؐ نے فعلی شہادت دے دی) وفات شدہ مان لو۔ان میں سے ایک شخص جو کہ لمبے قد کا تھا وہ بولا کہ آپ سچ کہتے ہیں آپ اپنا کام کئے جاویں میں نے آپ کا طریق سمجھ لیا ہے۔واقع میں اسلام کی خیرا سی میں ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰیؑ کے حق میں تَوَفّی کا لفظ استعمال کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رؤیت سے فعلی شہادت دی کہ ان کو معراج کی رات مُردوں کے ساتھ دیکھا۔بھلازندوں کو مُردوں سے کیاتعلق؟ حضرت عیسٰیؑ اگر زندہ ہوتے تو ان کے واسطے توکوئی الگ کوٹھڑی چاہیے تھی نہ یہ کہ وہ بھی مُردوں کے ساتھ ہی رہیں۔تَوَفّی کا لفظ بجز وفات کے جسم عنصری سے آسمان پر چڑھ جانے کے ہرگز قرآن شریف سے کوئی ثابت نہ کرسکے گا۔دیکھو! یہی لفظ تَوَفّی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں قرآن شریف نے بولا ہے۔اِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ