ملفوظات (جلد 10) — Page 18
جنہوں نے سب سے زیادہ دنیا میں اصلاح کی جن کے زندہ کئے ہوئے مُردہ اب تک زندہ ہیں ‘‘۔اس کے بعد جب کہ اخباروں میں بہت شور مچا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان صلح ہونی چاہیے۔تب حضرت صاحب نے لیکچر لاہور میں صلح کی ایک تجویز پیش کی جس کے یہ الفاظ تھے۔’’ ہم اس بات کا اعلان کرنا اور اپنے اس اقرار کو تمام دنیا میں شائع کرنا اپنی ایک سعادت سمجھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے نبی سب کے سب پاک اور بزرگ اور خدا کے برگزیدہ تھے۔ایسا ہی خدا نے جن بزرگوں کے ذریعہ سے پاک ہدایتیں آریہ ورت میں نا زل کیں اور نیز بعد میں آنے والے جو آریوں کے مقدس بزرگ تھے جیسا کہ راجہ رامچندر اور کرشن۔یہ سب کے سب مقدس لوگ تھے اور ان میں سے تھے جن پر خدا کا فضل ہوتا ہے۔دیکھو! یہ کیسی پیاری تعلیم ہے جو دنیا میں صلح کی بنیاد ڈالتی ہے اور تمام قوموں کو ایک قوم کی طرح بنانا چاہتی ہے یعنی یہ کہ دوسری قوموں کے بزرگوں کو عزت سے یاد کرو۔اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ سخت دشمنی کی جڑ ان نبیوں اور رسولوں کی تحقیر ہے جن کو ہر ایک قوم کے کروڑہا انسانوں نے قبول کر لیا۔ایک شخص جو کسی کے باپ کو گندی گالیاں دیتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا اس سے خوش ہو۔یہ کیوں کر ہو سکتا ہے ؟ غرض ہم اس اصول کو ہاتھ میں لے کر آپ کی خدمت میں حا ضر ہوئے ہیں کہ آپ گواہ رہیں جو ہم نے مذکورہ بالا طریق کے ساتھ آپ کے بزرگوں کو مان لیا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے تھے اور آپ کی صلح پسند طبیعت سے ہم اُمیدوار ہیں کہ آپ بھی ایسا ہی مان لیں یعنی صرف یہ اقرار کر لیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول اور صادق ہیں۔جس دلیل کو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے وہ نہایت روشن اور کھلی کھلی دلیل ہے اور اگر اس طریق سے صلح نہ ہو تو آپ یاد رکھیں کہ کبھی صلح نہ ہو گی بلکہ روز بروز کینے بڑھتے