ملفوظات (جلد 10) — Page 249
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا(الشّمس :۱۰) اور تزکیہ نفس بجز فضل خدا میسر نہیں آسکتا۔یہ خدا تعالیٰ کا اٹل قانون ہے لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا (الفتح :۲۴) اوراس کا قانون جو جذبِ فضل کے واسطے ہمیشہ سے مقرر ہے وہ یہی ہے کہ اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جاوے۔مگر دنیا میں ہزاروں ایسے موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم بھی لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہتے ہیں۔نیک اعمال بجالاتے ہیں۔اعمال بد سے پرہیز کرتے ہیں۔اصل میں ان کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ ان کو اتباع رسولؐ کی ضرورت نہیں مگر یاد رکھو! یہ بڑی غلطی ہے اور یہ بھی شیطان کا ایک دھوکہ ہے کہ ایسا خیال لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام پا ک میں تزکیہ اور محبتِ الٰہی کو مشروط باتباعِ رسول رکھا ہے تو کون ہے کہ وہ دعویٰ کرسکے کہ میں خود بخود ہی اپنی طاقت سے پاک ہوسکتا ہوں۔سچایقین اور کامل معرفت سے پُر ایمان ہرگز ہرگز میسّر ہی نہیں آسکتا جب تک انبیاء کی سچی فرماں برداری اور حمیّت اختیار نہ کی جاوے گناہ سوزایمان اورخدا کو دکھادینے والا یقین بجزاقتداری اورغیب پر مشتمل زبردست پیشگوئیوں کے جو انسانی طاقت اور وہم وگمان سے بالا تر ہوںہر گز ہرگز میسر نہیں آسکتا۔دنیا اپنے کاروبار دنیوی میں جس استغراق اور انہماک سے مصروف ہوتی اورجیسی جیسی جانکاہ اورخطرناک مشکل سے مشکل کوششیں اپنی دنیا کے واسطے کرتی ہے۔اگر خدا کی طرف بھی اسی طرح کی کوشش سے قدم اٹھاویں اور اس وقت جو ایک آسمانی سلسلہ خدا نے اس غرض کے لئے مقرر فرمایا ہے اس کی طرف متوجہ ہوں تو ہم یقین سے کہتے ہیں کہ ضرور اللہ تعالیٰ ان کے واسطے رحمت کے نشان دکھانے پر قادر ہے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ لوگ اس پہلو سے لاپروا ہیں ورنہ دینی امور اوراعمال کیامشکل ہیں۔نماز میں کوئی مشکل نہیں۔پانی موجود ہے۔زمین سجدہ کرنے کے واسطے موجود ہے۔اگر ضرورت ہے تو صرف ایک فرماں بردار اورپاک دل کی جس کو محبت الٰہی کی سچی تڑپ ہو۔دیکھو! اگر ساری نمازوں کو جمع کیاجاوے اور ان کے وقت کا اندازہ کیا جاوے تو شاید ایک گھڑی بھر میں ساری پوری ہوسکیں آخر پاخانہ بھی جاتے ہیں۔اگر اتنی ہی قدر نماز کی ان لوگوں کے دلوں میں ہوتو بھی یہ نماز کو اداکرسکتے ہیں۔مگر افسوس! اسلام اس وقت بہت خطرے میں ہے اور مسلمان درحقیقت نور ایمان سے بے نصیب