ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 248

رحیم ہے اورحلیم ہے اورمعاف کرنے والا ہے۔اس کی عادت ہے کہ اکثر معاف کردیتا ہے مگربندہ (انسان )کچھ ایسا واقع ہواہے کہ کبھی کسی کو کم ہی معاف کرتا ہے۔پس اگر انسان اپنے حقوق معاف نہ کرے توپھر وہ شخص جس نے انسانی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہویا ظلم کیا ہو خواہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں کوشاں ہی ہو اورنماز، روز ہ وغیرہ احکامِ شرعیہ کی پابندی کرتا ہی ہو۔مگر حق العباد کی پروا نہ کرنے کی وجہ سے اس کے اَوراعمال بھی حبط ہونے کا اندیشہ ہے۔غرض مومن حقیقی وہی جو حق اللہ اور حق العباد دونوں کو پورے التزام اوراحتیا ط سے بجالاوے۔جو دونوں پہلوئوں کو پوری طرح سے مدّنظر رکھ کر اعمال بجالاتا ہے وہی ہے کہ پورے قرآن پر عمل کرتا ہے ورنہ نصف قرآن پر ایمان لاتا ہے۔مگر یہ ہر دو قسم کے اعمال انسانی طاقت میں نہیں کہ بزور بازو اور اپنی طاقت سے بجالانے پرقادر ہوسکے۔انسان نفسِ امّارہ کی زنجیروں میں جکڑ ا ہوا ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اور توفیق اس کے شامل حال نہ ہو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔لہٰذا انسان کو چاہیے کہ دعائیں کرتا رہے۔تاکہ خدا کی طرف سے اسے نیکی پر قدرت دی جاوے اور نفسِ امّارہ کی قیدوں سے رہائی عطا کی جاوے۔یہ انسان کا سخت دشمن ہے۔اگر نفسِ امّارہ نہ ہوتا تو شیطان بھی نہ ہوتا۔یہ انسان کا اندرونی دشمن اور مار آستین ہے اورشیطان بیرونی دشمن ہے۔قاعدہ کی بات ہے کہ جب چورکسی کے مکان میں نقب زنی کرتا ہے توکسی گھر کے بھیدی اور واقف کا ر سے پہلے سازش کرنی ضروری ہوتی ہے۔بیرونی چور بجزاندرونی بھیدی کی سازش کے کچھ کر ہی نہیں سکتااور کامیاب ہوہی نہیں سکتا۔پس یہی وجہ ہے کہ شیطان بیرونی دشمن، نفسِ امّارہ اندرونی۔اورگھر کے بھیدی سے سازش کرکے ہی انسان کے متاعِ ایمان میں نقب زنی کرتا ہے اورنورایمان کو غارت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ (یوسف:۵۴) یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہراتا اور اس کی طرف سے مطمئن نہیں کہ نفس پاک ہوگیا ہے بلکہ یہ توشریر الحکومت ہے۔مدارنجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے تزکیہ نفس بڑا مشکل مرحلہ ہے اور مدار نجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے