ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 247

آنے لگ گئی ہے اب مطمئن ہوجاویں گے اوربے خوف ہوکر جرأت اوردلیری سے ارتکاب معاصی اورجرائم میں آگے سے بھی سخت دل ہو کر ترقی کر جاویں گے۔اورتو بہ، استغفار اورتوجہ اِلَی اللہ اور تبدیلی کی فکردلوں میں پیدانہ ہوگی۔مگر خدا فرماتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔( بعد نماز عصر) صفاتِ حسنہ اوراخلا قِ فاضلہ کے دوحصے حقو ق اللہ اورحقوق العباد (جناب شاہزادہ محمد ابراہیم خاں صاحب کی ملاقات کے وقت حضرت اقدسؑ نے بزبان فارسی تقریر فرمائی۔ایڈیٹر) فرمایا۔دنیا میں اس زمانہ میں نفاق بہت بڑھ گیا ہے۔بہت کم ہیں جو اخلاص رکھتے ہیں۔اخلاص اورمحبت شعبہ ایمان ہے۔آپ کو خدا آپ کی محبت اوراخلاص کا اجر دے اورتقویت عطا کرے۔اخلاق فاضلہ اسی کا نام ہے بغیر کسی عوض معاوضہ کے خیال سے نوع انسان سے نیکی کی جاوے۔اسی کا نام انسانیت ہے۔ادنیٰ صفت انسان کی یہ ہے کہ بدی کا مقابلہ کرنے یا بدی سے درگذر کرنے کی بجائے بدی کرنے والے کے ساتھ نیکی کی جاوے یہ صفت انبیاء کی ہے اورپھر انبیاء کی صحبت میں رہنے والے لوگوں کی ہے اور اس کا اکمل نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔خدا ہرگز ضائع نہیں کرتا ان دلوں کو کہ ان میں ہمدردی بنی نوع ہوتی ہے۔صفاتِ حسنہ اوراخلاقِ فاضلہ کے دوہی حصے ہیں اور وہی قرآن شریف کی پا ک تعلیم کا خلاصہ اورلُبّ ِ لُباب ہیں۔اوّل یہ کہ حق اللہ کے اداکرنے میں عبادت کرنا فسق وفجور سے بچنا اور کل محرماتِ الٰہی سے پرہیز کرنا اوراوامر کی تعمیل میں کمر بستہ رہنا۔دوم یہ کہ حق العباد اداکرنے میں کوتاہی نہ کرے اوربنی نوع انسان سے نیکی کرے۔بنی نوع انسان کے حقوق بجانہ لانے والے لوگ خواہ حق اللہ کو اداکرتے ہی ہوں بڑے خطر ے میں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ستّار ہے، غفار ہے،