ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 246

دنیا پر۔ایسے وقت میں یہ الہام ہوا تھا کہ اَفْطِرُ وَاَصُوْمُ یعنی ایک استعارہ تھا کہ کبھی یہ مرض زورپکڑ جاوے گااور کبھی اس میں وقفہ بھی آجاوے گا۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ(الرّعد :۱۲) خدا نہیں چھوڑے گا اورہر گز نہیں چھوڑے گاجب تک لوگ اپنے اخلاق، اعمال اورخیالات میں ایک تبدیلی پیدا نہ کرلیں گے۔اصل میں ان لوگوں کو یہ اَمر بھی گراںگذرتا ہے کہ خدا کی طرف کوئی اَمر منسوب کیا جاوے بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ اتفاقی طورسے ہوگئی۔خدا کا اس میں کیا دخل وتصرف ہے۔اب ہمیں تواس بات کا فکر ہے کہ اب لوگ خواہ نخواہ یہ رائے قائم کرلیں گے اور پھر اس رائے کو صحیح یقین کریں گے کہ ایک اتفاقی مرض تھا سوجاتا رہا، اب امن امان ہوگیا۔غرض اس طرح سے اطمینان اورتسلی کرکے خدا سے منہ پھیریں گے اوربے باکی اور جرأت میں ترقی کرجاویں گے۔دلوں میں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت ہی اٹھ چکی ہے۔دنیا کے حکّام کی اوراپنی اغراض کی جس قدر عظمت اورتڑپ ان کے دلوں میں ہوتی ہے خدااوراس کے رسول اوران کی رضا کی اتنی بھی تڑپ اور عظمت باقی نہیں رہی۔طاعون کا عالمگیر اورقہر ی نشان بھی ان کے واسطے مفید نہ ہوا۔زلزلے بھی خداکے وعدے کے عین مطابق آگئے اور شہر وں کے شہر جو کسی وقت بڑے آباد تھے ویران ہوگئے۔مگر دنیا نے تبدیلی پیدا نہ کی۔چند روز ہوئے الہام ہوا۔زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ یہ بھی ایک مخفی اورخوفناک بات پر استدلال کرتا ہے۔خواہ ظاہری ہوخواہ اندرونی۔کیونکہ زلزلہ کا لفظ ظاہر معنوں کے سوادوسرے معنوں پر بھی بولا گیا ہے جیساکہ قرآن شریف سے معلوم ہوتاہے۔زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا (الاحزاب :۱۲) اب جتنے نشان بھی خدا نے ظاہر کئے ہیں ان سب کا ان پر الٹا اثر پڑے گا اورسب کو یہ طاعون کی طرح اتفاقی سمجھ کر سخت دل ہوجاویں گے۔فرعون والا حال ہے۔وہ بھی جب ایک عذاب میں افاقہ ہوتا تھا تو اسے عارضی اور اتفاقی جان کر اور بھی سخت دل ہوجاتا تھا۔آخر کار پھر غرق ہوتے وقت کہا میں بھی اس پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔خدا کا نام پھر بھی نہ لیا۔یہی حال اس وقت اس قوم کا ہے۔طاعون تھا سووہ کسی قدر کم ہو ہی گیا ہے قحط بھی اب چند اں زور پر نہیں اورصورت امن کی نظر