ملفوظات (جلد 10) — Page 17
تو وہ مَرنے مارنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ہم نے آریوں کے اخباروں میں ایسے مضامین پڑھ کر کہ وہ مسلمانوں سے صلح چاہتے ہیں صلح کی ایک تجویز اپنے مضمون میں پیش کی تھی مگر افسوس ہے کہ انہوں نے قدر نہ کی۔نوٹ ازایڈیٹر صاحب’’ بدر‘‘۔حضرت اقدس نے آریوں کی بد زبانی کو دیکھ کر پہلے ہی ایک مضمون میں فرمایا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ ہماری صلح کس طرح ہو سکتی ہے۔چنانچہ وہ الفاظ کتاب ’’ قادیان کے آریہ اور ہم‘‘ میں اس طرح چھپے تھے۔’’ ہماری شریعت صلح کا پیغام ان کو (آریوں کو ) دیتی ہے اور ان کے ناپاک اعتقاد جنگ کی تحریک کر کے ہماری طرف تیر چلا رہے ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے بزرگوں کو مکار اور جھوٹا مت کہو مگر یہ کہو کہ ہزارہا برسوں کے گذرنے کے بعد یہ لوگ اصل مذہب کو بھول گئے مگر بمقابل ہمارے یہ ناپاک طبع لوگ ہمارے برگزیدہ نبیوں کو گندی گالیاں دیتے ہیں اور ان کو مفتری اور جھوٹا کہتے ہیں۔کیا کوئی توقع کر سکتا ہے کہ ایسے ہندوؤں سے صلح ہوسکے؟ ان لوگوں سے بہتر سناتن دھرم کے اکثر نیک اخلاق لوگ ہیں جو ہر ایک نبی کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور فروتنی سے سر جھکا تے ہیں۔میری دانست میں اگر جنگلوں کے درندے اور بھیڑئیے ہم سے صلح کر لیں اور شرارت چھوڑ دیں تو یہ ممکن ہے مگر یہ خیال کرنا کہ ایسے اعتقاد کے لو گ کبھی دل کی صفائی سے اہلِ اسلام سے صلح کرلیں گے سر اسر باطل ہے بلکہ ان کا ان عقیدوں کے ساتھ مسلمانوں سے سچی صلح کرنا ہزاروں محا لوں سے بڑھ کر محال ہے۔کیا کوئی سچا مسلمان برداشت کر سکتا ہے جو اپنے پاک اور بزرگ نبیوں کی نسبت ان گالیوں کو سنے اور پھر صلح کرے؟ ہر گز نہیں پس ان لوگوں کے ساتھ صلح کرنا ایسا ہی مضر ہے جیسا کہ کاٹنے والے زہریلے سانپ کو اپنی آستین میں رکھ لینا۔یہ قوم سخت سیاہ دل قوم ہے جو تمام پیغمبروں کو جو دنیا میں بڑی بڑی اصلاحیں کر گئے مفتری اور کذّاب سمجھتے ہیں۔نہ حضرت موسٰی ان کی زبان سے بچ سکے نہ حضرت عیسیٰ ؑ اور نہ ہمارے سید ومولا جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم