ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 16

سے ناراض ہوگیا ہے اور اب وہ کلام نہیں کرے گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس کا جواب قرآن شریف میں اس طرح دیا ہے کہ وَ الضُّحٰى وَ الَّيْلِ اِذَا سَجٰى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى( الضُّحٰى :۲تا۴) یعنی قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی اور رات کی۔نہ تو تیرے رب نے تجھ کو چھوڑدیا اور نہ تجھ سے نارا ض ہوا۔اس کا یہ مطلب ہے کہ جیسے دن چڑھتا ہے اور اس کے بعد رات خود بخود آجاتی ہے اور پھر اس کے بعد دن کی روشنی نمودار ہوتی ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی خوشی یا ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔یعنی دن چڑھنے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت اپنے بندوں پر خوش ہے اور نہ رات پڑنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر ناراض ہے بلکہ اس اختلاف کو دیکھ کر ہر ایک عقلمند خوب سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ہو رہا ہے۔اور یہ اس کی سنّت ہے کہ دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن ہوتا ہے پس اس سلسلہ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کہ اس وقت خدا خوش ہے اور اس وقت ناراض ہے غلط ہے۔اسی طرح سے آجکل جو وحی الٰہی کا سلسلہ کسی قدر بند رہا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ تجھ سے ناراض ہو گیا ہے یا یہ کہ اس نے تجھ کو چھوڑ دیا ہے بلکہ یہ اس کی نسبت ہے کہ کچھ مدت تک وحی الٰہی بڑے زور سے اور پے درپے ہوتی ہے اور کچھ دنوں تک اس کا سلسلہ بند رہتا ہے اور پھر شروع ہو جاتا ہے اور اس کی بھی وہی مثال ہے جو دن اور رات کے آگے پیچھے آنے کی ہے۔۱ ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۷ء ( صبح بوقتِ سیر ) آریوں کے ساتھ مسلمانوں کی صلح کی تجاویز فرمایا۔سچا مسلمان تو وہ ہے جو اپنے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی محبت رکھتا ہے کہ اگر کوئی آنحضرت کی ہتک میں ایک لفظ بھی بولے یا اشارہ بھی کرے۱ بدر جلد ۶ نمبر ۵۲ مورخہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳