ملفوظات (جلد 10) — Page 16
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶ جلد دہم سے ناراض ہو گیا ہے اور اب وہ کلام نہیں کرے گا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے اس کا جواب قرآن شریف میں اس طرح دیا ہے کہ وَالضُّحَى وَالَّيْلِ إِذَا سَجِي مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى ( الضُّحى : ۲ تا ۴ ) یعنی قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی اور رات کی ۔ نہ تو تیرے رب نے تجھ کو چھوڑ دیا اور نہ تجھ سے ناراض ہوا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ جیسے دن چڑھتا ہے اور اس کے بعد رات خود بخود آ جاتی ہے اور پھر اس کے بعد دن کی روشنی نمودار ہوتی ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی خوشی یا ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔ یعنی دن چڑھنے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت اپنے بندوں پر خوش ہے اور نہ رات پڑنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر ناراض ہے بلکہ اس اختلاف کو دیکھ کر ہر ایک عقلمند خوب سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق ہو رہا ہے۔ اور یہ اس کی سنت ہے کہ دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن ہوتا ہے پس اس سلسلہ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کہ اس وقت خدا خوش ہے اور اس وقت ناراض ہے غلط ہے۔ اسی طرح سے آجکل جو وحی الہی کا سلسلہ کسی قدر بند رہا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ تجھ سے ناراض ہو گیا ہے یا یہ کہ اس نے تجھ کو چھوڑ دیا ہے بلکہ یہ اس کی نسبت ہے کہ کچھ مدت تک وحی الہی بڑے زور سے اور پے درپے ہوتی ہے اور کچھ دنوں تک اس کا سلسلہ بند رہتا ہے اور پھر شروع ہو جاتا ہے اور اس کی بھی وہی مثال ہے جو دن اور رات کے آگے پیچھے آنے کی ہے۔ اے ۲۴ دسمبر ۱۹۰۷ء ( صبح بوقت سیر ) فرمایا۔ سچا مسلمان تو وہ ہے جو اپنے آریوں کے ساتھ مسلمانوں کی صلح کی تجاویز دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی محبت رکھتا ہے کہ اگر کوئی آنحضرت کی ہتک میں ایک لفظ بھی بولے یا اشارہ بھی کرے ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۵۲ مورخه ۲۶ دسمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۳