ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 230

چاہیے کہ ایک ایسی زبر دست بات پکڑے اور ایسا اصول اختیار کرکے کہ جس سے وہ دوسروں پر غالب آجاوے۔اچھا اگر یہی بات ہے تو پھر بتائو تو سہی کہ تم میں اور تمہارے غیروں میں مابہ الامتیازہی کیا ہے؟ جبکہ برہمو بھی تو حید کے قائل ہیں۔عیسائی بھی توحید کے خیالات رکھتے ہیں۔آریہ بھی توحید کے حامی بنتے ہیں۔یہودی بھی مؤحد ہیں۔ہم نے ایک خط ایک فاضل یہودی کو لکھا تھا کہ توحید کے متعلق تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ اس کے جواب میں اس نے لکھا کہ ہماری تعلیم توحید کی ہے اور ہمارا وہی خدا ہے جو قرآن کا خدا ہے۔اب یہ سمجھنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ جب یہ لوگ بھی توحید کا ہی دعویٰ کرتے ہیں تو مسلمانوں میں خصوصیت کی وجہ کیا ہے؟ حق و باطل میں تمیز کرنیوالے معجزات رہی نظری اور دقیق بحثیں سووہ توذبح کرنے والی باتیں ہیں۔بحثوں سے کبھی کوئی مانا؟ نہیں۔دیکھو! لیکھرام کا مجھ سے مقابلہ ہوا تھا۔اس نے میرے واسطے پیشگوئی کی تھی کہ تین برس میں مَرجائوں گا۔میں نے خدا سے خبر پاکر اس کے حق میں پیشگوئی کی تھی کہ چھ بر س میں بذریعہ قتل ہلاک ہوگا۔لیکھرام کی کتاب’’خبط احمدیہ‘‘ کھول کر دیکھ لو کہ کس طرح اس نے رو رو کر گریہ وبکا سے پرمیشر کے حضور نہایت عجزو انکسار سے التجا کی ہے اور خدا سے صادق کی تائید اور نصرت اور کاذب کی ہلاکت اور بربادی کا فیصلہ مانگا ہے تاکہ حق و باطل میں تمیز ہو سکے اور دنیا پر ظاہر ہو جاوے کہ آریہ مت اور مذہب اسلام دونوں میں سے خدا کے حضور کونسی راہ پیاری اور منظور ہے اور کون سی مردود؟ آخر کارجو فیصلہ ہوا ایک دنیا اس کو جانتی ہے کہ خدا نے کس کی تائید کی اور کون نامراد مَرا۔اور اس طرح سے سچے اور جھوٹے اور اسلام اور آریہ مذہب کا ہمیشہ کے واسطے تصفیہ ہو گیا۔۱ یہ ہیں خدا کے نشان اور ان کا نام ہے مابہ الامتیاز۔خشک مباحثات سے کیا ہو سکتا ہے۔بھلا کبھی کسی نے دیکھا بھی کہ مباحثہ سے کسی نے ہار منوائی ہو؟ ایک طرف خبط احمدیہ کو لے لو اور دوسری ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۱ مورخہ ۶؍مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ تا ۶