ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 229

پوری ہو ئی۔الٓمّٓ غُلِبَتِ الرُّوْمُ (الرّوم :۲،۳)والی پیشگوئی کو بھی وہ ظنی اور ڈھکوسلا بتاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نعوذ باللہ) واقعات موجودہ کو دیکھ کر ایسا اندازہ کر لیا تھا اور اس طرح سے پیشگوئی کر دی تھی۔اس کے سوا اور سینکڑوں کتابیں اور رسائل ہیں جو اسلام کے خلاف لکھے گئے۔کوئی مسلمان کسی عیسائی کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا اور دشمنانِ اسلام کو کوئی دندان شکن جواب نہیں دے سکتا۔اگر اسلام اور اسلام کی زندگی صرف پرانے قصے کہانیوں پر ہی آرہی ہے تو پھر یاد رکھو کہ اسلام آج بھی نہیں ہے اور کل بھی نہیں ہے۔یاد رکھو کہ اسلام کی جس طرح خدا نے ابتدا میں حمایت کی اور کرتا آیا ہے۔اسی طرح آج بھی اسلام کی حمایت میں وہ تازہ بتازہ نشان دکھا سکتا ہے اور ہر مومن کے واسطے وہ بشرطیکہ کوئی مومن ہو فرقان پیدا کر سکتا ہے۔مگر یہ ہیں نام کے مُلّاں اور حامیانِ دین متین کہ خود منبر وں پر چڑھ کر بلند آوازوں سے کہتے ہیں کہ اب اسلام میں نشان دکھانے والا کوئی نہیں۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب نے خود جلسہ مہوتسو میں جہاں کہ تمام مذاہب کے لوگ جمع تھے اس بات کا اقرار کیا کہ افسوس ہے کہ اسلام میں آجکل ایسے لوگ موجود نہیں ہیں جو نشان دکھا سکیں۔گویا خود اقرار کر لیا کہ ہمارا مذہب بھی دوسرے مذاہب کی طرح ایک مُردہ مذہب ہے اور زندگی کی جو علامات ہوتے ہیں وہ اب اس میں موجو نہیں ہیں۔اب غور کر و کہ کیا اسلام کی عزت ایسی ہی باتوں میں ہے؟ نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اور کیا ذلّت ہو گی کہ اسلام کو ایسے لوگوں سے خالی مانا جاوے جن سے خدا مکالمہ مخاطبہ کرتا ہو اورجن کی صداقت کے ثبوت کے واسطے ان کے ساتھ زبردست غیب پر مشتمل نشان موجود ہوں۔یادرکھو کہ اگر خدانخواستہ ایسا بھی کوئی زمانہ آجاوے کہ اسلام میں یہ برکات نہ رہیں تویقین رکھو کہ اسلام بھی اورمذہبوں کی طرح مَر گیا۔کیونکہ زندگی کی جو علامت تھی جب وہی مفقود ہے تو پھر زندگی کیسی؟ دیکھو! برہمو بھی تو لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے قائل ہیں وہ اگر تم سے سوال کریں کہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کے زیادہ کرنے سے تم میں کیا طاقت اورخصوصیت پیدا ہوگئی؟ تو بتائوان کو کیا جواب دو گے؟ مسلمان کو