ملفوظات (جلد 10) — Page 228
کیا۔لوگوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات اکثر جاگزیں ہو جایا کرتے ہیں کہ میں بھی انسان ہوں اور یہ مدعی الہام بھی آخر میری ہی طرح کا انسان ہے تو کیا وجہ ہے کہ مجھے الہام اور مکالمہ الٰہیہ نہیں ہوتا اور اس کو ہوتا ہے؟ اس واسطے ایسے شبہات کا قلع قمع کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے ہرانسان میں اس فیضان کی ایک جھلک بطور نمونہ رکھ دی۔دیکھو! جس طرح ایک پیسہ لاکھ دو لاکھ پیسوں کے وجود کے لئے اور ایک روپیہ کروڑ دو کروڑ روپوں اور خزائن کے واسطے دلیل ہو سکتا ہے۔اسی طرح سے ایک سچا خواب الہام کے واسطے دلیل صحیح ہو سکتا ہے۔سچے خواب بطور ایک نمونہ کے فطرت انسانی میں ودیعت کئے گئے ہیں تاکہ اس نقطہ سے اس انتہائی کمال فیضان کا وجود یقین کر لیا جاوے۔جب ایک خواب معمولی بلکہ ادنیٰ درجہ کے انسان کو بھی ممکن ہے تو کیا وجہ کہ اعلیٰ درجہ کے کامل اور پاک مطہر انسان میں اس خواب کا اعلیٰ مرتبہ جس کو ہم الہام کہتے ہیں موجود نہ ہو کیونکہ سچا خواب بھی کمالات کا ایک ادنیٰ ترین حصہ ہے۔یادر کھو کہ سلسلہ مکالمہ مخاطبہ اسلام کی روح ہے۔ورنہ اگر اسلام کو یہ شرف حاصل نہ ہوتا تو یقیناً اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ایک مردہ مذہب ہوتا ہے۔اس بات کو خوب سمجھ لو کہ اگر اسلام اس فضلِ الٰہی اور برکت سے خالی ہوتا تو یقیناً اسلام میں بھی کوئی وجہ فضیلت نہ تھی۔یہ خدا کا خاص فضل ہے کہ وہ اس قسم کے زندہ نمونے اسلام میں ہر صدی کے سر پر بھیجتا رہا ہے۔اور اس طرح سے ہمیشہ اسلام کا زندہ مذہب ہونا دنیا پر ثابت کرتا رہا ہے۔اسلام ایک وقت وہ مذہب تھا کہ ایک شخص کے مرتد ہوجانے سے قیامت برپا ہو جاتی تھی مگر اب وہی اسلام ہے کہ لاکھوں انسان اس سے مرتد اوربے دین ہو گئے۔اندرونی بیرونی دشمنوں کے حملوں سے اسلام کو نابود کرنے کی کوشش کی گئی اور اسلام کی ہتک کی گئی۔پائوں کے نیچے روندا اور کچلا گیا۔خود مسلمانی کا دعویٰ کرنے والے دین کی حقیقت سے بے خبر ہو کر دین کے دشمن ثابت ہو رہے ہیں۔اب بتائو کہ وہ کونسی ضلالت اور گمراہی باقی ہے جس کی اب انتظار کی جاتی ہے۔عیسائیوں میں پادری فنڈر کی کتابیں مطالعہ کر کے دیکھ لو۔وہ لکھتا ہے کہ اسلام میں ایک بھی پیشگوئی نہیں جو کی گئی اور نہ ہی کوئی