ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 223

اور بڑی بے رحمی سے دشمن چاروں طرف سے اپنے پورے ہتھیاروں سے اس کو نیست ونابود کرنے کے واسطے مسلّح وتیار ہوکر حملہ آور ہو رہے ہیں۔اسلام اس وقت مُردہ ہوچکا تھا اوراندرونی اور بیرونی حملوں سے نیم جان۔اسلام کی شمع کا اب آخر ی وقت تھا اوراس کی گردن پر بڑی بے رحمی سے چُھری پھیری جارہی تھی۔اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الـحجر:۱۰) کس وقت کے لئے کیا گیا تھا ؟ کیا ابھی کوئی اور مصیبت بھی رہ گئی تھی جو اسلام پر آنی باقی ہو؟ یادرکھو! حفاظت سے اوراق کی حفاظت ہی مُراد نہیں بلکہ اس کی تشریح ایک حدیث میں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ قرآن شریف دنیا سے اٹھ جاوے گا۔ایک صحابیؓنے عرض کیا کہ لوگ قرآن کو پڑھتے ہوں گے تو اٹھ کیسے جاوے گا ؟ فرمایا میں تو تمہیںعقلمند خیال کرتا تھا مگر تم بڑے بیوقوف ہو۔کیا عیسائی انجیل نہیں پڑھتے؟ اور کیا یہودی توریت نہیں پڑھتے؟ قرآن کے اٹھ جانے سے مُراد یہ ہے کہ قرآن شریف کا علم اٹھ جاوے گا اور ہدایت دنیا سے نابود ہوجاوے گی۔انوار اوراسرار قرآنیہ سے لوگ بے بہرہ ہوجاویں گے اورعمل کوئی نہ کرے گا۔قرآن جس کے سکھانے کو آیا ہے لوگ اس راہ کو ترک کردیں گے اوراپنی ہواوہوس کے پابند ہو جاویں گے۔جب یہ حال ہوگا تو ابنائے فارس میں سے ایک شخص آوے گا اور وہ دین کو از سرنَوواپس لائے گا اور دین کو اورقرآن کو ازسر نَوتازہ کرے گا۔قرآن کی کھوئی ہوئی عظمت اوربھولی ہوئی ہدایت اورثر یا پرچڑھ گیا ہوا ایمان دوبارہ دنیا میں پھیلاوے گا۔لَوْکَانَ الْاِیْـمَانُ عِنْدَالثُّـرَیَّا لَنَالَہٗ رَجُلٌ مِّنْ اَبْنَاءِ فَارِس۔غرض قرآن شریف سے اوراحادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس امت میں آخری زمانہ میں ایک خلیفہ کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہے اوراس کے علامات اورنشانات بھی بتا دیئے گئے ہیں۔ہمیں مسیح موعودؑ ہونے کا دعویٰ ہے۔اب ہر شخص کا جو خدا اور رسول سے پیارکرتا ہے اوراپنے ایمان کو سلامت رکھنا چاہتا ہے فرض ہے کہ اس معاملہ میں غورکرے کہ آیا ہم نے جو دعویٰ کیا ہے بجا ہے کہ جھوٹا۔خدا کی طرف سے آنے والوں کے ساتھ خدائی نشان ہوتے ہیں۔