ملفوظات (جلد 10) — Page 211
ہم اس معاملہ میں صاحبِ تجربہ ہیں۔جس طر ح سے اب اترتا ہے اسی طرح پہلے اترتا تھا۔اس میں اعتراض کی بات ہی کیا ہے اورخلافِ قانون کس اَمر کو کہا جاتا ہے۔خلافِ قانون توجب کوئی کہہ سکتا ہے کہ کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے سارے اسرار کا مطالعہ کرلیا ہے اور سارے قانونِ قدرت کا اس نے احاطہ کرلیا ہے۔پھر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فلاں اَمر قانونِ قدرت کے خلاف ہے مگر جب خدا کی قدرت کا کوئی انتہا ہی نہیں پاسکا توپھر یہ دعویٰ کیسا؟ ہمارے الہامات کی کتاب تو بنیاد ہی ہے مگر شریعت نہیں ہے۔شریعت وہی ہے جو آنحضرتؐلائے اور جو قرآن شریف نے دنیا کو سکھلائی۔ایک نقطہ نہ گھٹایا گیا نہ بڑھایا گیا ہے۔خدا تعالیٰ اب بھی کلام کرتا ہے خدا جس طرح پہلے دیکھتا تھا اب بھی دیکھتا ہے اسی طرح جس طرح سے پہلے کلام کرتا تھا اب بھی صفتِ تکلّم اس میں موجود ہے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اب خدا کلام نہیں کرتا۔کیا خیال کیا جاسکتا ہے کہ پہلے تو خدا سنتا تھا مگر اب نہیں سنتا۔پس اللہ تعالیٰ کے تما م صفات جو پہلے موجود تھے اب بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔خدا میں تغیر نہیں۔شریعت چونکہ تکمیل پاچکی ہے۔لہٰذا اب کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المآئدۃ :۴)پس اکمالِ دین کے بعد اور کسی نئی شریعت کی حاجت نہیں۔فراست فرمایا۔خدا جس کو حکومت دیتا ہے اسے فراست بھی عطا فرماتا ہے بشر طیکہ وہ خود اپنے اس پاک جوہر کو شرارت یا تعصب کی کدورت سے مکدرنہ کردے۔نیک طبع حکام کو اللہ تعالیٰ تائید غیبی سے بعض ایسے امور میں جن میں حق وباطل پوشیدہ ہوتا ہے حق ظاہر کردیتا ہے اورفراستِ صحیحہ سے وہ اس اَمر کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں۔پھر ان کو اوردلائل کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ہمارے اس مقدمہ کی حالت جوڈگلس کے سامنے پیش ہوا تھا اس میں غور کرنے والے کے