ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 197

بلاتا ریخ سفوفِ بھلاوہ کے خواص سفوفِ بھلاوہ کا ذکر تھا۔فرمایا۔باہ کے مایوسوں کے واسطے مفید ہے۔فرمایا۔یہ اَمر گناہ میں داخل ہے کہ انسان لوگوں کے ہنسی ٹھٹھے سے ڈرکر حق گوئی سے رہ جاوے۔سلطان روم کا ذکر خیر سلطان روم کا ذکر تھا۔فرمایا۔اس گئے گذرے زمانہ میں بھی اسلامی بادشاہوں نے خدا تعالیٰ کی یاد کی راہ کو نہیں چھوڑا۔سنا گیا ہے کہ سلطان روم نماز جمعہ کے واسطے مسجد جاتا ہے اورفقراء کو ملتا ہے۔اس زمانہ کی سب سے اہم ضرورت فرمایا۔ہمارے اصول میں یہ بات ہے کہ سچائی کو دنیا میں پھیلا یا جائے۔اس زمانہ میں بڑی ضرورت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کو ثابت کیا جاوے۔قولِ موجّہ فرمایا۔قولِ موجّہ صفت انبیاء ہے۔اونٹ کی سواری کا طبی فائدہ فرمایا۔اونٹ کی سواری بھی محلل ہے۔امراض ذیابیطس۔سلسل البول کو مفید ہے۔مبلّغ کے لئے ایک اہم بات فرمایا۔مبلّغ کو چاہیے کہ امراء کو جو لمبا کلام نہیں سن سکتے ایک چھوٹا سا ٹوٹکا سنائے جو سیدھا کان کے اندر چلا جائے اور اپنا کام کرے۔تعدّدازدواج تعددِ ازواج کا ذکر تھا۔فرمایا کہ شریعتِ حقّہ نے اس کو ضرورت کے واسطے جائز رکھا ہے۔ایک لائق آدمی کی بیوی اگر اس قسم کی ہے کہ اس سے اولاد نہیں ہوسکتی تووہ کیوں بے اولاد رہے اوراپنے آپ کو بھی عقیم