ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 187

کی ہتک اورکسرِ شان ہے۔مَردمی اس میں ہے کہ جو کام وہ کرتے تھے وہ کام کئے جاویں اوران کی تعلیم پر عمل درآمد کرکے اچھا نمونہ دکھانے کے ذریعہ دکھایا جاوے کہ وہ خود اعلیٰ قسم کے انسان تھے اوران کے انفاس میں تزکیہ کا اثر اورتعلیم میں اعلیٰ درجہ تک ترقی کرنے کی طاقت موجود تھی۔زبانی تعریف کرنے میں غلو کرنے سے کیا فائدہ؟ کیاان کی تعلیم کا اثر اسی زمانہ تک محدود تھا یا اب بھی ہے؟ اوراگر ہے توکہاں؟ اورکس ملک میں ؟ افسوس آتا ہے اگر عیسٰیؑ اب آجاویں تووہ تو اس قوم کو پہچان بھی نہ سکیں۔ہم ان سے محبت رکھتے ہیں اور آپ محبت نہیں رکھتے ہوں گے کیونکہ آپ کو ان کی خبر نہیں۔ہم نے تو ان کو بارہا دیکھا ہے۔بلکہ ہم تو جانتے ہیں کہ اب بھی خود آپ لوگوں کے گھر میں ہی تفرقہ ہے اختلاف ہے۔بعض ایسے فرقے عیسائیوں میں اب بھی موجود ہیں جو حضرت عیسٰیؑ کو خدانہیں مانتے بلکہ صرف ایک برگزیدہ نبی مانتے ہیں اورقرآن شریف سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے تو جب گھر میں ہی اختلاف ہے توکیوں وہ راہ اختیار نہیں کی جاتی جو سلامتی کی راہ ہے؟ اور کیوں وہ راہ ترک نہیں کی جاتی جوکہ بالاتفاق خطرناک ثابت ہوچکی ہے؟ باقی رہا یہ کہ اب دنیا میں کیا ہوگا؟ سواس کے متعلق ہم صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ دنیا اپنی اس موجودہ حالت پر نہیں رہے گی بلکہ اس میں ایک عظیم الشان تغیر اورانقلاب واقع ہوگا۔سوال۔مسیح کو آپ نے کس طور سے دیکھا ہے؟ آیا جسمانی رنگ میں دیکھاہے ؟ جواب۔فرمایاکہ ہاں جسمانی رنگ میں اورعین حالت بیداری میں دیکھا ہے۔سوال۔ہم نے بھی مسیح کو دیکھا ہے اوردیکھتے ہیں مگر وہ روحانی رنگ میں ہے۔کیا آپ نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طر ح ہم دیکھتے ہیں۔جواب۔نہیںہم نے ان کو جسمانی رنگ میں دیکھا ہے اوربیداری میں دیکھا ہے۔اس تقریر کے بعد حضرت اقدسؑ نے فرمایاکہ ان کے واسطے چائے تیار ہے لہٰذا ان کو چائے پلائی جاوے